جماعت اسلامی کا ہرٹائون کراچی کا ماڈل ٹائون بن رہا ہے،منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کا ہرٹائون کراچی کا ماڈل ٹائون بن رہا ہے ،جماعت اسلامی شہر کراچی کو تعمیر وترقی کے راستے پر گامزن کررہی ہے کراچی کی بدقسمتی ہے کہ کراچی کو لوٹنے اور تباہ کرنے کے لیے تو حکمران پارٹیاں تیار رہتی ہیں لیکن کراچی کا مقدمہ لڑنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے ۔جماعت اسلامی کراچی کے 3 کروڑ عوام کامقدمہ لڑ رہی ہے اور عوام کے حقوق کے حصول اور اختیارات کے لیے ہم ان کا تعاقب جاری رکھے گے ۔کراچی کا ماضی روشن ہے اورمستقبل بھی روشن ہوگا ۔17سال سے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے سندھ میں لوٹ مار کا راج قائم کیا ہوا ہے ۔جماعت اسلامی نے کراچی کے شہریوں کا ہاتھ تھاما ہے اور شہر کوترقی اور شہر کی جانب رواں دواں کیا ہے ۔لانڈھی ٹائون میں ہونے والی ترقی اور خوشحالی بے مثال اور منفرد ہے ۔ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے لانڈھی ٹائون کے تحت امیر جماعت اسلامی ضلع کورنگی مرزا فرحان بیگ ،ٹائون چیئرمین لانڈھی عبدالجمیل خان ، ٹائون میونسپل کمشنر لانڈھی ابراہیم جمانی اور وائس ٹائون چیئرمین محمد عمران ودیگر ذمے داران کے ہمراہ’’سنورتا لانڈھی پروگر ام‘‘ فیز ون کے سلسلے میں 12000 روڈکی تزین وآرائش ،دانش پارک کی بحالی ،گرین بیلٹ اور آئی لینڈ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر لانڈھی ٹائون کے یوسیز چیئرمین ،وائس چیئرمین ،کونسلرز ،لانڈھی ٹائون کے افسران اور جماعت اسلامی کے ذمے داران وکارکنان کی بھی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔علاوہ ازیں منعم ظفر خان نے ضلع کورنگی کے دفتر کا بھی دورہ کیا اور بنو قابل ایپٹی ٹیوٹ ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد انٹر ویو دینے والے طلبہ و طالبات سے بھی ملاقات کی اور انہیں مبارکباد دی ۔منعم ظفر خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پہلے کراچی کی میئر شپ اور پھر عام انتخابات میں مسترد شدہ لوگوں کو اہل کراچی پر زبردستی مسلط کیا گیا ۔گزشتہ 20سال سے شہر کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔19سال گزر گئے لیکن کے فور منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا ،کراچی کے شہریوں کو ٹینکروں کے ذریعے تو پانی ملتا ہے لیکن گھروں کے نلکوں سے نہیں ملتا ،پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی کے اداروں پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ،بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، سولڈ ویسٹ مینجمنٹ اس کے قبضے میں ہیں ۔کراچی کے شہری سندھ حکومت کے بجٹ کا 96فیصد حصہ دیتے ہیں، پورا ملک اور سندھ کراچی کے ٹیکسوںپر ہی چلتا ہے لیکن پیپلز پارٹی کی متعصب حکومت کراچی سے لینا تو جانتی ہے لیکن کچھ دینا نہیں جانتی ۔کراچی کے عوام آج بنیادی مسائل کا شکار ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے اس نے اس شہر میں وڈیرہ راج قائم کیا ہوا ہے ۔عام انتخابات ہوں یا بلدیاتی انتخابات جماعت اسلامی پرشہریوں نے اعتماد کیا ۔جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے اپنے اختیارات اور وسائل سے بڑھ کرکام کر رہے ہیں، ڈیڑھ سال میں شہر میں44ہزار اسٹریٹ لائٹزلگائیںہیں۔125سے زاید پارکس کوبحال کیا ،مساجد ،گلیوں ،بازاروں کے اطراف میں پیوربلاکس لگائے گئے ۔لانڈھی ٹائون 12000روڈ پر بلدیہ عظمی کراچی کو کام کرنا چاہیے تھا لیکن یہ تباہ حال روڈکی گرین بیلٹ کی تزئین وآرائش لانڈھی ٹائون نے کی اور 12000 روڈ کے اطراف میں ہی دانش پارک کی بحالی اور آئی لینڈ کی تعمیر ایک منفرد اور خوبصورت کام ہے جس نے لانڈھی کو چار چاند لگادیے ہیں ۔جس پر چیئرمین لانڈھی ٹائون ،وائس چیئرمین ،یوسیزچیئرمین ،کونسلرز کے ساتھ لانڈھی ٹائون کے افسران بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ گزشتہ دنوں بنوقابل 4.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی کے پیپلز پارٹی کی کررہے ہیں کراچی کا کراچی کے ہے لیکن کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔