نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان نے افغانستان سے ہونے والی سرحد پار دہشتگردی پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ سے تعاون کی اپیل کر دی ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک میں موجود ہیں جہاں انہوں نے یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے پاکستان کے امن مشنز میں کردار اور اقوامِ متحدہ میں سرگرم شمولیت پر شکریہ ادا کیا۔
نائب وزیرِاعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل ناگزیر ہے، انہوں نے فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دو ریاستی حل کا حامی ہے۔
افغانستان سے سرحد پار دہشتگردی کے معاملے پر اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ کابل سے ہونے والی سرحد پار دہشتگردی پر تشویش ہے، افغانستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے لئے اقوامِ متحدہ کے تعاون کی ضرورت ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور کثیرالجہتی سفارتکاری کے اصولوں پر کاربند ہے، پاکستان یواین سلامتی کونسل کے غیرمستقل رکن کے طور پر عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لئے پرعزم ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان سرزمین سے دہشت گردی کا سامنا ہے، پ±رامن اور مستحکم افغانستان خطے کے مفاد میں ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گلوبل گورننس کے عنوان سے اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ عالمی امن اور سلامتی کے لئے اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے، آج کے بحرانوں نے یواین چارٹرکے تحت قائم ورلڈ آرڈر کوبھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردی کا سامنا ہے، پاکستان دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے ہر ضروری اقدام کر رہا ہے، دہشت گردی پوری دنیا کے لئے بڑا چیلنج ہے، مسئلہ کشمیرکا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں۔

کیا آپ نے آئینی ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا،جسٹس جمال مندوخیل  کا لطیف کھوسہ سے استفسار

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل دہشتگردی کے کہ پاکستان اسحاق ڈار سرحد پار گردی کے کا کہنا کے لئے

پڑھیں:

افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم

افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA

— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سیلاب نورستان

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے، اسحاق ڈار کا ایس سی او سمٹ میں خطاب
  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل