پاکستان اور یورپی یونین کا دہشتگردی سے لڑنے کے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
پاکستان اور یورپی یونین نے تمام شکلوں میں دہشت گردی کی مذمت کی اور اس سے لڑنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آج برسلز میں انسداد دہشت گردی کا نواں ڈائیلاگ منعقد ہوا۔
پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ میں انسداد دہشت گردی کے ڈائریکٹر جنرل عبدالحمید کر رہے تھے جبکہ یورپی یونین کی جانب سے وفد کی قیادت یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کے ڈائریکٹر برائے سلامتی اور دفاعی پالیسی میسیج سٹیدجک نے کی۔
برسلز میں موجود سفارتی ذرائع کے مطابق اس موقع پر دونوں وفود نے انسداد دہشت گردی کیلئے باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے تمام شکلوں میں دہشت گردی کی مذمت کی اور اس سے لڑنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
اس کے علاوہ وفود نےافغانستان اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت علاقائی اور عالمی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
فریقین نے گفتگو میں اقوام متحدہ اور عالمی انسداد دہشت گردی فورم سمیت کثیرالجہتی فورمز میں مضبوط تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
فریقین کے درمیان پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام اور انسداد پر مشترکہ اقدامات سمیت کثیر الجہتی شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
غیر ملکی جنگجوؤں کی بھرتی اور نقل و حرکت، آف لائن اور آن لائن بنیاد پرستی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کی یورپی یونین تبادلہ خیال
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔