موٹرسائیکل سواروں کو ایک ایک میٹر سفید کپڑا خرید نے کامشورہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
کراچی: چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ نے موٹر سائیکل سواروں کو ایک ایک میٹر سفید کپڑا خرید نے کامشورہ دے دیا۔ شہر میں ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ متحرک ہوگئے۔ ڈیفنس میں اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے آفاق احمد بولے آرمی کے ٹینک الخالد سے زیادہ وزن ڈمپرز کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں 45 لاکھ موٹر سائیکل رجسٹرڈ ہیں، ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی مالی معاونت کا بندوست کرنا ہے۔
آفاق احمد نے کہا کہ حکومت سے دن کے اوقات میں ہیوری ٹریفک پر پابندی عائد کرنے کا ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں، شہر میں ٹریفک حادثات کا جائزہ لینے کے لیے وکلا اور مرکزی کمیٹی کے ذمہ داران ہر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے، جلد عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ نے رینجرز کو سندھ بھر میں پولیسنگ کا اختیارات دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے سے کراچی میں تعینات رینجرز اگر صوبے میں تعینات ہوگی تو یقینی طور پر امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔
چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد کا کہنا تھا کہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید و بند کی صوبتیں برداشت کرنا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے، جن سیاسی قائدین نے میرے معاملے پر آواز بلند کی ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
یادرہے کہ مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کو اشتعال انگیز بیان پر پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ آفاق احمد کو کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ آفاق احمد کے کہنے پر کراچی میں مال بردار گاڑیاں جلائی گئیں، کورنگی میں مال بردار گاڑیوں کو جلانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین کے خلاف جلاؤ گھیراؤ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ ا فاق احمد
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔