توہین عدالت کے کیس میں بری ہونے والے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نظر عباس عہدے سے ریٹائر ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
توہین عدالت کے کیس میں بری ہونے والے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نظر عباس عہدے سے ریٹائر ہو گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 28 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)توہین عدالت کے کیس میں بری ہونے والے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نظر عباس عہدے سے ریٹائر ہو گئے ۔
سپریم کورٹ کی طرف سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نظر عباس کو خیر باد کہا،چیف جسٹس نے نظر عباس کی سپریم کورٹ میں سالوں کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔ اعلامیے کے مطابق رجسٹرار سپریم کورٹ محمد سلیم خان نے بھی نظر عباس کی خدمات کو سراہا،چیف جسٹس اور رجسٹرار نے نذر عباس کو سووینئیر بھی پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نظر عباس
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔