یوکرینی صدر زیلنسکی کو اوول آفس میں ہونے والی تلخی پر معافی مانگنی چاہیے.مارکوروبیو
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔یکم مارچ ۔2025 ) امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے مطالبہ کیا ہے کہ اوول آفس میں ہونے والی تلخی پر انہیں معافی مانگنی چاہیے امریکی نشریاتی ادارے ”سی این این“ سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ صدر زیلنسکی کو ہمارا وقت ضائع کرنے اور میٹنگ اس طرح ختم کرنے پر معافی مانگنی چاہیے.
(جاری ہے)
یوکرینی صدر کے دورہ واشنگٹن کے دوران توقع کی جارہی تھی کہ امریکا اور یوکرین کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیئے جائیں گے جس کے تحت یوکرین سے معدنیات نکالنے کے معاہدے پر دستخط ہونگے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روزبیان میں معدنیات سے متعلق معاہدے کو یوکرین کے دفاع کی گارنٹی قراردیا تھا تاہم وائٹ ہاﺅس میں ملاقات کی ویڈیو میں دونوں صدور کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ملاقات میں امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو اورنائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود تھے. دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان تکرار کے بعد امریکہ اور یوکرین کے درمیان معدنیات سے متعلق ممکنہ معاہدے پر بھی دستخط نہیں ہو سکے اور صدر زیلنسکی مشترکہ پریس کانفرنس کے بغیراحتجاج کے طور پر وائٹ ہاوس سے چلے گئے جس کے بعد دونوں صدور کی مشترکہ نیوز کانفرنس منسوخ کر دی گئی. امریکی وزیر خارجہ نے سوال کہاکہ اب دیکھنا ہو گا کہ کیا یوکرینی صدر تین سال سے جاری جنگ ختم کرنے میں سنجیدہ بھی ہیں یا نہیں مارکو روبیو نے کہا کہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ شاید صدر زیلنسکی امن معاہدہ نہیں چاہتے وہ کہتے تو ہیں کہ وہ ایسا چاہتے ہیں لیکن لگتا نہیں کہ وہ ایسا چاہتے ہیں. امریکی وزیر خارجہ نے کہاکہ یہ صورتِ حال قیام امن کے لیے کوشاں ہر شخص کے لیے مایوسی کا باعث ہے اوول آفس میں ہونے والی تکرار کے دوران صدر ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ ان کے پاس سوائے جنگ ختم کرنے کے کوئی آپشن نہیں ہے یوکرین روس کے ساتھ معاہدہ کرے ورنہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے. صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آپ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں آپ کے فوجی مر رہے ہیں اور آپ کے پاس کوئی آپشن نہیں ہیں اور آپ اپنی مرضی کرنی کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں اس پر یوکرین کے صدر نے کہا کہ روس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہونا چاہیے اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ سفارت کاری کے ذریعے اس جنگ کو ختم کرنا چاہتا ہے جس پر صدر زیلنسکی نے کہا تھا کہ کون سی سفارت کاری ہم نے 2019 میں روس کے ساتھ معاہدہ کیا تھا لیکن 2022 میں اس نے ہم پر حملہ کر دیا. ملاقات کے دوران امریکی نائب صدر نے زیلنسکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ نے ایک بار بھی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اس پر صدر زیلنسکی نے کہا کہ جی میں ایسا کئی مرتبہ کر چکا ہوں خیال رہے کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی کے دورہ امریکہ کو اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا تھا دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان یوکرین کی معدنیات اور قدرتی وسائل سے متعلق ایک تاریخی معاہدہ بھی متوقع تھا ممکنہ معاہدے کو یوکرین میں تین برس سے جاری جنگ کے خاتمے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا تھا. صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکہ نے یوکرین کو اربوں ڈالرز کی فوجی امداد دی لہٰذا اس معاہدے کے ذریعے یوکرین کو امریکہ کو یہ رقم واپس کرنے کا موقع ملے گا واضح رہے کہ روس یوکرین جنگ کے معاملے پر امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات ہیں صدر ٹرمپ روس کے ساتھ معاہدہ کرکے جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں جبکہ جنوری میں صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں کے نفاذشروع کیا اور واشنگٹن نے نیٹو اتحاد سے لاتعلقی اختیار کرلی. یورپ کے ساتھ تجارتی تعلقات پر بھی صدر ٹرمپ نے سخت بیانات جاری کیئے حال ہی میں امریکی صدر نے روسی صدر پوٹن سے رابط کیا جس کے بعد انہوں نے روس یوکرین جنگ کے خاتمے ‘کیف پراربوں ڈالرکی امریکی امدادکی واپسی سمیت دیگر امور پر انتہائی سخت موقف اختیار کیا روس یوکرین جنگ پریورپی یونین کے رکن ممالک یوکرین کی حمایت کررہے ہیں اور عالمی منظرنامے پر یورپ اور امریکا کے درمیان تعلقات میں تلخی آرہی ہے بظاہر یورپ یوکرین جبکہ واشنگٹن جنگ کے خاتمے اور روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری پر کام کررہا ہے .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مارکو روبیو صدر زیلنسکی روس کے ساتھ کے درمیان یوکرین کے نے کہا کہ کے دوران جنگ کے تھا کہ کے بعد
پڑھیں:
بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا، نواز شریف
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں ان کی حکومت کے بعد آنے والی حکومتوں نے کچھ نہیں کیا اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو سے کہا کہ کشمیر کو کشمور اور میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرپور اتنا خوب صورت شہر ہے لیکن جتنا خوب صورت ہونا چاہیے تھا اتنا نہیں ہے اور اپنے دور کے میرے کام ادھورے پڑے ہوئے پروان نہیں چڑھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ عہد لے کر آئے ہیں کہ میرپور اور آزاد کشمیر کی تقدیر بدل دیں گے، میرے وزارت عظمیٰ سے جانے کے بعد میں خاموش رہا لیکن کشمیر میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، میں ان حکومتوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو نواز شریف کی حکومت کے بعد آزاد کشمیر اور پاکستان میں آئیں اس نے آزاد کشمیر کے لیے کیا کیا ہے اگر کچھ کیا ہے تو مجھے بتاؤ۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں اپنا گھر سمجھتا ہوں، کشمیر میرا پہلا گھر ہے، مجھے لاہور بھی پیارا اور کشمیر بھی اتنا ہی پیارا ہے، اس کو کشمور نہ سمجھنا، یہ کشمیر ہے، یہ میرپور ہے میرپور خاص نہیں ہے، بلاول میری بات کا برا نہ ماننا، آپ میرے برخوردار ہو یہ نوک جھونک سیاسی جماعتوں میں ہونی چاہیے، تلخی نہیں ہونی چاہیے، لڑائی، مار کٹائی نہیں ہونی چاہیے، نوک جھوک ہونی چاہیے یہ بڑی اچھی بات ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح نوجوانوں کو تعلیم دینا ہے، یہاں اسکول اور یونیورسٹیاں بنیں گی اور صحت پر خصوصی توجہ دی جائے گی، مریم نواز پنجاب میں دل اور کینسر کے اسپتال بنا رہی ہیں اور ہر قسم کی مشینری موجود ہے، میں شہباز شریف اور مریم سے کہوں گا کہ یہاں کے ہر اسپتال میں وہی کچھ ہونا چاہیے جو پنجاب میں آپ کر رہی ہیں، یہاں بھی کینسر اور دل کے بےشمار اسپتال ہونے چاہئیں، یہاں بھی سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی ہونی چاہیے، یہ لوگ علاج معالجے کے لیے اسلام آباد نہ جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے علاج معالجے کی سہولتیں میرپور، کوٹلی، بھمبر اور پورے آزاد کشمیر میں ہونی چاہئیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ جو الیکٹرک بسیں لاہور میں چلتی ہیں مریم نواز یہاں بھی لے کر آئی ہیں، اسپتال آن ویلز بھی آئیں گے اور 10 اسپتال یہاں آئیں گے۔
جلسے میں کشمیر کی مجبوری ہے نواز شریف ضروری ہے کے نعرے لگے تو جواب میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر یہاں مسلم لیگ(ن) کی حکومت بنتی ہے اور مسلم لیگ(ن) کا وزیراعظم بنتا ہے تو میں اس کے ساتھ خود چل کر آزاد کشمیر کے چپہ چپہ جاؤں گا اور اپنی نگرانی میں کام کراؤں گا اور منشور کی تکمیل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اسپتال، کالج بنیں گے، موٹرویز بنیں گی، مانسہرہ سے مظفر آباد اور مظفرآباد سے میرپور جہلم دریا کے ساتھ ساتھ ایک موٹر وے بنانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بدقسمتی سے میرے جانے کے بعد آنے والی حکومتوں نے کوئی توجہ نہیں دی اور وہ موٹروے نہیں بن سکی، وہ منصوبہ ایسا تھا وہ کشمیر کی تقدیر بدل دیتا، کشمیر کو خوش حالی سے ہم کنار کرتا اور ان شااللہ اس کو بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مظفر آباد کے شہریوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں اسلام آباد سے مری جیسی ایکسپریس وے کو مظفر آباد تک لے جائیں گے۔