مولانا فضل الرحمٰن کی پشین سے کامیابی دھاندلی کا نتیجہ ہے، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما بیرسٹر شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ جے یو آئی کو کم از کم 4 نشستیں فارم 47 سے ملی ہیں، پشین سے مولانا فضل الرحمٰن کی کامیابی بھی دھاندلی کا نتیجہ ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں میزبان نادر گرامانی سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے الزام عائد کیا کہ فضل الرحمٰن کا احتجاج اس بات پر ہے کہ انہیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے کم حصہ دیا گیا، مولانا فضل الرحمٰن کم حصہ ملنے پر ناراض ہیں۔
انہوں نے پرویز خٹک کی کابینہ میں شمولیت سے پی ٹی آئی کو مسائل پیش آنے کا دعویٰ مضحکہ خیز قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک (ن) لیگ یا پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل نہیں ہوئے، انہیں پھر بھی کابینہ میں شامل کیا گیا۔
شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ صرف حکومت ہی نہیں اپوزیشن کے کچھ ارکان بھی فارم 47 کے مطابق جیت کر قومی اسمبلی پہنچے ہیں جس کا علم بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب خان کو بھی ہے، حتیٰ کہ وزیراعظم شہباز شریف کو بھی علم ہے کہ کون سے اپوزیشن کے لوگ فارم 47 پر جیت کر آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران ریاض، حیدر مہدی، میجر عادل راجا سمیت 5 یوٹیوبرز کے خلاف لندن کی عدالت میں کیس دائر کروں گا، اس حوالے سے میرے وکلا ان یوٹیوبرز کی ویڈیوز کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شیر افضل مروت فضل الرحم ن
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔