انڈیا بمقابلہ آسٹریلیا: انڈیا نے آخری بار کب آسٹریلیا کو ناک آؤٹ اسٹیج میں شکست دی تھی؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 میں انڈیا اور آسٹریلیا آج سیمی فائنل میں آمنے سامنے ہوں گے۔
اس اہم ایونٹ کے سیمی فائنل میں بھارت نے گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ کو 44 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی جہاں آج بھارتی ٹیم کا دبئی میں آسٹریلیا سے ٹاکرا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: چیمپیئنز ٹرافی، سیمی فائنل سے قبل آسٹریلیا کو ایک اور جھٹکا، اہم کھلاڑی انجرڈ
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کی آئی سی سی ایونٹس کے ناک آؤٹ اسٹیجز میں آسٹریلیا کے خلاف تاریخ کچھ زیادہ متاثرکن نہیں رہی ہے۔
سال 2010 سے اب تک بھارت اور آسٹریلیا کا 4 مرتبہ آئی سی سی ایونٹس کے ناک آؤٹ مراحل پر آمنا سامنا ہوا ہے تاہم ان میں سے انڈیا کو صرف ایک میچ میں فتح حاصل ہوئی، باقی 3 میچز میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
بھارت نے آخری بار 2011 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا کو شکست دی تھی جو اس مرحلے پر 2010 سے اب تک اس کی آسٹریلیا کے خلاف واحد کامیابی ہے۔
اس کے بعد ون ڈے ورلڈ کپ 2015 اور 2023 میں اسے آسٹریلیا سے بالترتیب سیمی فائنل اور فائنل میں شکست ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: چیمپیئنز ٹرافی: بھارت نے نیوزی لینڈ کو 44 رنز سے شکست دے دی
اسی طرح 2023 کے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں بھی انڈیا کو ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا نے ناک آؤٹ کیا۔
آج دبئی میں ہونے والے سیمی فائنل مقابلے میں دیکھنا یہ ہے کہ بھارت آسٹریلیا کے خلاف کامیابی حاصل کرکے پچھلی کئی ناکامیوں کا تسلسل توڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔
دوسری طرف اس اہم ٹاکرے کے لیے آسٹریلوی ٹیم بھی خاصی پرجوش ہے۔
آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان اسٹیو اسمتھ نے بھارت کے خلاف چیمپیئنز ٹرافی سیمی فائنل سے قبل دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمی فائنل میں بھارت کے خلاف اچھا کھیل پیش کرنے کوشش کریں گے ۔
یہ بھی پڑھیے: چیمپیئنز ٹرافی، سیمی فائنل سے قبل آسٹریلیا کو ایک اور جھٹکا، اہم کھلاڑی انجرڈ
ون ڈے ورلڈ کپ 2023 کے فائنل میں بھارت کو شکست دے کر تماشائیوں کرانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں اسٹیو اسمتھ نے کہاکہ وہ شائقین کو خاموش کرانے نہیں، کھیل میں بہترین کارکردگی دکھانے پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سیمی فائنل میں بھارت سے کڑا مقابلہ ہوگا کیوں کہ بھارتی ٹیم مسلسل دبئی میں کھیل رہی ہے، ہمیں سیمی فائنل معرکے کا بے صبری سے انتظار ہے۔
آسٹریلوی کپتان نے کہاکہ بھارتی ٹیم دبئی کی کنڈیشنز کو اچھی طرح سمجھتی ہے، پچ خشک ہے جبکہ اس پر کافی گیمز بھی ہوچکی ہیں، اس لیے یہ اسپنرز کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ بھارت کے ساتھ ہمارا اچھا مقابلہ ہوگا، ہم خوب سے خوب تر کھیل پیش کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت آسٹریلیا کے درمیان چیمپیئنز ٹرافی کا پہلا سیمی فائنل آج دبئی کے کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
cricket ICC india vs australia.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فائنل میں بھارت چیمپیئنز ٹرافی میں ا سٹریلیا ا سٹریلیا کو ا سٹریلیا کے سیمی فائنل نے کہاکہ کہ بھارت ناک ا ؤٹ کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔