رولز روئس نے نئی تیز ترین کار ’بلیک بیج سپیکٹر‘ متعارف کروا دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
لندن(ویب ڈیسک )گاڑیوں کی مشہور کمپنی رولز روئس نے اپنی نئی تیز ترین کار ’بلیک بیج سپیکٹر‘ متعارف کروا دی ہے۔
عرب ویلز کے مطابق پیر کو رولز روئس نے اپنی نئی رولز روئس بلیک بیج سپیکٹر متعارف کروائی جو کہ کمپنی کی سب سے تیز اور لگژری گاڑی ہے۔
اس میں ڈوئل موٹر سیٹپ نصب ہے جو 659 ہارس پاور اور 1075 نیوٹن میٹر ٹورک پیدا کرتی ہے۔
لیک بیج نے اپنی چیسس کو ری ڈیزائن کیا ہے جبکہ بہترین ہینڈلنگ کے لیے اس میں اضافی موٹر بھی نصب ہے۔
رولز روئس موٹر کارز کے سی ای او کرس براؤنریج نے اس کار کو اپنی پاور اور مقصد کی علامت قرار دیا ہے۔
اس نئی سپیکٹر میں انفینیٹی موڈ کو ڈالا گیا ہے جس کی مدد سے گاڑی کی 100 فیصد الیکٹرک پاور تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ڈریگ ریس میں سپیریٹڈ موڈ کی مدد سے مزید ایکسلریشن حاصل کی جا سکتی ہے یعنی آپ 4.
مزیدپڑھیں:چیمپئنز ٹرافی سیمی فائنل: نیوزی لینڈ کا جنوبی افریقا کو جیت کیلئے 363 رنز کا ہدف
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: رولز روئس
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔