چینی حکام رواں سال تقریباً 5 فیصد اقتصادی ترقیاتی ہدف کے حوالے سے پراعتماد
اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT
بیجنگ :14 ویں قومی عوامی کانگریس (این پی سی) کے تیسرے اجلاس میں اقتصادی موضوعات پر ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں متعلقہ محکموں کے ذمہ دار حکام نے ترقی اور اصلاحات، مالیاتی بجٹ، تجارت اور مالیاتی سیکیورٹیز جیسے امور پر چینی اور غیر ملکی نامہ نگاروں کے سوالات کے جوابات دیئے۔
نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے چیئرمین ژنگ شان جے نے کہا کہ رواں سال اقتصادی ترقی کا ہدف تقریباً 5 فیصد طے کیا گیا ہے، ہمارے پاس بنیاد، حمایت اور ضمانت ہے۔ہم اس حوالے سے پراعتماد ہیں۔ژنگ شان جے نے بتایا کہ 2024 میں چینی معیشت نے ترقی اور اعلیٰ معیار دیکھا ہے۔ 2024 میں ، چین کی نئی صنعتوں ، نئے کاروباری فارمیٹس اور نئے کاروباری ماڈلز کی اضافی قدر کا جی ڈی پی کے تناسب میں مزید اضافہ ہوا ہے، جو 18 فیصد سے متجاوز رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔