کاروباری ہفتے کے آخری روز مارکیٹ میں تیزی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 7th, March 2025 GMT
کاروباری ہفتے کے آخری روز اسٹاک مارکیٹ میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے اختتام پر ہنڈرڈانڈیکس 685 پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 14 ہزار 398 پوائنٹس پر بند ہوا۔اسٹاک مارکیٹ میں دن بھر مجموعی طور پر 431 کمپنیوں کے شیئرز میں کاروبار ہوا ،219 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 149 کے شیئرز میں کمی ہوئی۔بازار میں 40 کروڑ 43 لاکھ سے زائد شیئرز کا لین دین ہوا ، 27 ارب 84 کروڑ سے زائد مالیت کے شیئرز کے سودے ہوئے،مارکیٹ کی بلند ترین سطح 114،721 جبکہ کم ترین سطح 114،169 پوائنٹس رہی۔ دوسری جانب انٹربینک میں ڈالر 15پیسے مہنگا ہوگیا، کاروبار کے اختتام پر ڈالر 279روپے 82پیسے سے بڑھ کر 279روپے 97پیسے پر بند ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔