روہت کو موٹا اور نالائق کہنے والی شمع محمد کا یوٹرن، اب کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
روہت شرما کو موٹا اور نالائق کپتان کہنے والی کانگریس ترجمان شمع محمد نے اپنے بیان سے یوٹرن لے لیا۔
چیمپئنز ٹرافی 2025 میں شاندار کامیابی کے بعد شمع محمد نے انسٹاگرام پر پوسٹ کرتے ہوئے بھارتی کرکٹ ٹیم کو مبارکباد دی۔
شمع نے لکھا، "ٹیم انڈیا کو شاندار کارکردگی پر مبارکباد! کپتان روہت شرما نے 76 رنز کی زبردست اننگز کھیل کر فتح کی بنیاد رکھی، جبکہ شریاس آئیر اور کے ایل راہول نے بھی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔"
View this post on InstagramA post shared by Shama Mohamed (@dr.
یاد رہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو 4 وکتوں سے شکست دی تھی، کیویز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 251 رنز بنائے۔ جواب میں بھارتی ٹیم نے 6 وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کر لیا۔
روہت شرما کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جنہوں نے 83 گیندوں پر 76 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 3 چھکے اور 7 چوکے شامل تھے۔
مزید پڑھیں: کانگریس ترجمان نے جلدی آؤٹ ہونے پر روہت شرما کو موٹا قرار دے دیا
دلچسپ بات یہ ہے کہ چند دن پہلے شمع محمد نے روہت شرما کی فٹنس پر سوالات اٹھائے تھے جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
عوامی ردعمل کے بعد شمع نے اپنا متنازع ٹویٹ ڈیلیٹ کر کے وضاحت دی کہ ان کا تبصرہ کسی کھلاڑی کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھا بلکہ فٹنس سے متعلق ایک عام رائے تھی۔
یہی نہیں بلکہ کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں نے بھی شمع کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ پارٹی کے ترجمان پون کھیڑا نے واضح کیا تھا کہ شمع کے بیانات کانگریس کے مؤقف کی عکاسی نہیں کرتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روہت شرما
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔