پشاور ہائیکورٹ۔

پشاور ہائیکورٹ میں بیوی سمیت خاندان کے7 افراد کے قتل میں نامزد ملزم کی سزا کے خلاف اپیل پر عدالت عالیہ نے کہا کہ کیوں نہ ملزم کی سزا عمر قید سے سزائے موت میں تبدیل کی جائے۔ 

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ملزم پر گھریلو ناچاقی پر 2021 میں بیوی سمیت خاندان کے سات افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ 

انکا کہنا تھا کہ عدالت نے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی، ملزم نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی۔ 

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، ملزم سے آلہ قتل بھی برآمد ہوا۔ 

عدالت عالیہ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے پوچھا کہ ملزم کی سزا میں اضافے کے لیے کوئی اپیل دائر کی گئی؟ 

جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نعمان الحق کاکاخیل نے کہا سزا بڑھانے کے لیے کسی نے اپیل دائر نہیں کی، ملزم نے اپنی بیوی سمیت خاندان کے سات افراد کو بے دردی سےقتل کیا۔

انھوں نے کہا ملزم کا ایک بیٹا زخمی ہوا، ڈرامے کے لیے بیٹے کو اسپتال لے گیا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نعمان الحق کاکاخیل نے کہا ملزم کی نشاندہی پر آلہ قتل برآمد ہوا، الزام ثابت ہوچکا ہے، عدالت نے سزا بڑھانے سے متعلق ملزم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ملزم کی سزا بیوی سمیت

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا