ممتاز عالم دین اور جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار نعیمی کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
اسلام ٹائمز کے ساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں ممتاز عالم دین اور جماعت اہل حرم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سید حسن نصر اللہ کی شخصیت ہمیشہ امت مسلمہ کے اتحاد اور مزاحمت کی علامت رہی، ان کی قیادت میں، انہوں نے نہ صرف اپنے نظریات کو عملی شکل دی بلکہ اپنے ماننے والوں میں ایک نئی روح پھونکی، یہی وجہ تھی کہ ان کے جنازے میں لاکھوں افراد شریک ہوئے، جو ان کے اثر و رسوخ اور عوامی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ مفتی گلزار نعیمی، جو جنازے میں شریک تھے، نے آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی اجتماع تھا، لوگوں کا ایک سیلاب تھا جو اپنے محبوب قائد کو آخری وداع کہنے آیا تھا، فضا سوگوار تھی لیکن ایک عزم بھی نظر آ رہا تھا کہ ان کا مشن ہمیشہ زندہ رہے گا۔ متعلقہ فائیلیںمفتی گلزار احمد نعیمی ایک ممتاز پاکستانی عالمِ دین، خطیب اور مذہبی اسکالر ہیں۔ وہ اہلِ سنت و الجماعت (بریلوی مکتبِ فکر) سے تعلق رکھتے ہیں اور مذہبی، سماجی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مفتی گلزار احمد نعیمی نے اسلامی علوم میں تخصص حاصل کیا اور فقہ، تفسیر اور حدیث میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ مختلف دینی و علمی فورمز میں اسلامی تعلیمات کی ترویج اور عصرِ حاضر کے مسائل کے حل کے لیے اپنی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ وہ جماعتِ اہلِ حرم پاکستان کے سربراہ ہیں، جو کہ ایک مذہبی و سماجی تنظیم ہے اور محافلِ میلاد، کانفرنسز اور اتحادِ امت کے لیے کام کرتی ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی بین المذاہب ہم آہنگی کی کانفرنسز میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ مفتی گلزار احمد نعیمی نے ہمیشہ مذہبی رواداری، امن اور اتحاد بین المسلمین پر زور دیا ہے۔ وہ مختلف عقائد کے مابین ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے کوشاں رہے ہیں اور اسلام کی امن و آشتی کی تعلیمات کو اجاگر کرتے ہیں۔ مفتی گلزار نعیمی آج لبنان کیلئے روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ شہید حسن نصراللہ کی نماز جنازہ کی تقریب میں شرکت کریں گے، اس حوالے سے خصوصی انٹرویو کیا گیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ) https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :