حکومت نے پیٹرول پرعائد فی لیٹر لیوی میں مزید اضافہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقراررکھنے کے اعلان کے بعد پٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر پیٹرولیم لیوی میں 10،10 روپے اضافہ کر کے شہریوں کو بڑے ریلیف سے محروم کر دیا۔
پیٹرولیم ڈویژن سے جاری نوٹیفکسن کے مطابق 16 مارچ سے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی 60 روپے سے بڑھا کر 70 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی بھی 60 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 70 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، ڈیزل پر بھی لیوی 10 روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل پر لیوی 60 روپے سے بڑھا کر 70 روپے کر دی گئی ہے۔
حکومت کے اس اقدام پر ڈیزل کی قیمت میں 10روپے کا متوقع ریلیف بھی لیوی کی نذر ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کے باوجود وفاقی حکومت نے اگلے 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وزیراعطم شہباز شریف نے عوام کو بجلی کی مد میں ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روپے فی لیٹر دی گئی ہے ڈیزل پر
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔