چین کے صدر شی جن پنگ نے یورپی یونین اور چین کے سفارتی تعلقات کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر سربراہی اجلاس کے لیے برسلز کا دورہ کرنے کی دعوت کو مسترد کر دیا  ۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ بیجنگ نے یورپی یونین کے حکام کو بتایا کہ شی جن پنگ کے بجائے وزیراعظم لی چیانگ یورپی کونسل اور کمیشن کے صدور سے ملاقات کریں گے۔
اخبار نے رپورٹ میں بتایا کہ چینی وزیراعظم عام طور پر اس سربراہی اجلاس میں شرکت کرتے ہیں جب یہ برسلز میں منعقد ہوتی ہے۔
ملک کے صدر بیجنگ میں اس اجلاس کی میزبانی کرتے ہیں تاہم، یورپی یونین چاہتی ہے کہ شی جن پنگ بیجنگ اور بلاک کے درمیان تعلقات کی نصف صدی کی یاد میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کریں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے برسلز اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ یورپی یونین نے چین پر کریملن کی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے۔
گزشتہ سال یورپی یونین نے بھی چینی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدات پر محصولات عائد کیے تھے۔
چین کی وزارت خارجہ اور یورپی یونین نے فوری طور پر تبصرہ کے لیے روئٹرز کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
یورپی یونین کے ایک اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ ’رواں سال یورپی یونین-چین سربراہی اجلاس کی تاریخ طے کرنے اور نمائندگی کے حوالے سے غیر رسمی بات چیت جاری ہے۔‘
چینی وزارت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس کے پاس اس معاملے سے متعلق فراہم کرنے کے لیے کوئی معلومات نہیں ہیں۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: یورپی یونین

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر
  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام