جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں کل جزوی کرفیو نافذ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 16th, March 2025 GMT
جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں کل جزوی کرفیو نافذ کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 16 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )خیبر پختونخوا کے علاقے جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں جزوی کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، اعلامیے کے مطابق بینی زائی راغزائی سے جنڈولہ تک کل صبح 6 سے شام 6 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر کے مختلف راستوں پر جزوی کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا اور اس سلسلے میں انتظامیہ نے اعلامیہ جاری کردیا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ جنوبی وزیرستان اپر کے بینی زائی راغزائی سے جنڈولہ تک راستے پر کرفیو نافذ ہوگی، اس کے علاوہ تنائی سروکئی، جنڈولہ سڑک پر بھی کرفیو نافذ ہوگی۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ وانا زالئی کیمپ سے کیڈیٹ کالج روڈ بند رہے گا، کرفیو 17 مارچ 2025 کو صبح 6 سے شام 6 بجے تک کرفیو نافذ ہوگا، کوڑ قلعہ، منزئی، خرگئی، احمد وام اور جنڈولہ کے راستے بند رہے گے، ان راستوں پر ہر قسم کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہوگی۔ سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کے باعث راستوں پر کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 3 اضلاع کے ڈپٹی کمشنر نے اعلامیہ جاری کیا ہے۔ضلع جنوبی وزیر ستان اپر، ضلع جنوبی وزیر ستان لوئر اور ٹانک کے ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے کرفیو کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جنوبی وزیرستان کے مختلف
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے