پولیس مقابلے میں 3 ڈاکو ہلاک، ڈکیتی مزاحمت پر 9 شہری زخمی
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
رمضان المبارک کے مہینے میں شہر بھر میں لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافہ ہونے لگا
قائد آباد پل کے قریب پولیس مقابلے میں ایک ڈاکو ہلاک، دو سرا زخمی حالت میں گرفتار
کراچی کے علاقے لیاری اور قائد آباد پل کے قریب پولیس مقابلے کے دوران 3 ڈاکو ہلاک ہوگئے جبکہ ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کے واقعات میں9 اشری زخمی ہوگئے، رمضان المبارک کے مہینے میں شہر بھر میں لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔پولیس کے مطابق لیاری کے کمیلا اسٹاپ کے قریب مبینہ پولیس مقابلہ ہوا جس میں 2 ڈاکو ہلاک ہوگئے جبکہ قائد آباد پل کے قریب پولیس مقابلے میں ایک ڈاکو ہلاک اور دوسرا زخمی حالت میں گرفتار ہو گیا۔پولیس کے مطابق ملزمان نے واردات کے دوران فائرنگ کرکے 3 شہریوں کو زخمی بھی کیا جب کہ شہر کے دیگر علاقوں میں ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے 9 افراد زخمی ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پولیس مقابلے ڈاکو ہلاک کے قریب
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔