امریکی جج نے ایلون مسک کو یو ایس ایڈ ختم کرنے سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
امریکا کی وفاقی عدالت کے جج نے امریکا کے استعداد کار سے متعلق محکمہ ڈوج اور ایلون مسک کو یو ایس ایڈ ادارہ کیخلاف مزید اقدامات کرکے اسے ختم کرنے سے روک دیا۔
عدالت نے حتمی حکمنامہ مدعی کے حق میں جاری ہونے کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کو یو ایس ایڈ کو واشنگٹن میں رونالڈ ریگن عمارت میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر کو پھر سے استعمال کرنے کی اجازت دینے کے لیے اقدامات کا بھی حکم دیدیا۔
صدر ٹرمپ نے فیصلے کیخلاف اپیل کا اعلان کردیا، مقدمہ یو ایس ایڈ کے دو درجن سے زائد ملازمین کی جانب سے اسٹیٹ ڈیموکریسی ڈیفنڈرز گروپ نے دائر کیا تھا۔
مقدمے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایلون مسک نے وفاقی ایجنسییوں پر بہت زیادہ اتھارٹی حاصل کرلی ہے جو کہ امریکی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا اور آئین کے تحت یہ اتھارٹی صرف وہی شخص استعمال کرسکتا ہے جسے صدر نے نامزد کیا ہو اور سینیٹ نے اس کی بطور افسر توثیق کی ہو۔
میری لینڈ کی وفاقی عدالت کے جج تھیوڈور چانگ کی جانب سے یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وفاقی حکومت کا حجم کم کرنے کی کوششوں پر ضرب قرار دیا جارہا ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یو ایس ایڈ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔