Nawaiwaqt:
2026-07-24@13:07:40 GMT

گوگل سرچ میں صحت سے متعلق نئے اے آئی فیچرز کا اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT

گوگل سرچ میں صحت سے متعلق نئے اے آئی فیچرز کا اضافہ

اکثر افراد اپنی خراب طبیعت پر پریشان ہوکر گوگل سرچ کا رخ کرکے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کسی سنگین مرض کے شکار تو نہیں۔یہی وجہ ہے کہ گوگل کی جانب سے سرچ انجن میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی فیچرز کا اضافہ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد لوگوں کو صحت سے متعلق تفصیلات کے حصول میں مدد فراہم کرنا ہے۔گوگل کی جانب سے بتایا گیا کہ اے آئی اور رینکنگ سسٹم کو استعمال کرکے نالج پینل میں صحت سے متعلق ہزاروں موضوعات کے جوابات دیے جائیں گے۔گوگل سرچ میں پہلے ہی نالج پینل میں مختلف امراض جیسے فلو یا نزلہ زکام کے بارے میں سوالات کے جوابات فراہم کیے جاتے ہیں مگر اب اس میں متعدد موضوعات کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔گوگل کی جانب سے واٹ پیپل سجیسٹ نامی سرچ فیچر بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔یہ فیچر سب سے پہلے امریکا میں صارفین کو دستیاب ہوگا اور اس کے ذریعے لوگ ایسے مواد کو دیکھ سکیں گے جو مختلف امراض یا صحت سے متعلق موضوعات کے حوالے سے انٹرنیٹ صارفین نے شیئر کیا ہوگا۔مثال کے طور پر اگر کوئی فرد جوڑوں کی تکلیف کے حوالے سے کسی ورزش کے بارے میں پوچھتا ہے تو اس فیچر کے تحت اے آئی کو استعمال کرکے ویب پر موجود متعدد فورسز کی رپورٹس تک رسائی فراہم کی جائے گی۔اس فیچر کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ لوگ صحت سے متعلق مشوروں کے لیے ریڈیٹ یا دیگر ذرائع پر جانے کی بجائے بس گوگل سرچ تک محدود رہیں۔گوگل کی چیف ہیلتھ آفیسر کیرن ڈی سالوو نے بتایا کہ بیشتر افراد گوگل سرچ پر قابل اعتبار طبی تفصیلات ڈھونڈنے کے لیے آتے ہیں اور وہ دیگر افراد کے اس طرح کے تجربات کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اے آئی کی مدد سے ہم نے آن لائن فورمز میں لوگوں کی جانب سے بیان کیے گئے تجربات کو ایک جگہ منظم کر دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کی جانب سے گوگل سرچ گوگل کی اے آئی

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • 20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام