Islam Times:
2026-07-24@09:40:59 GMT

شمالی کوریا کا جدید ترین طیارہ شکن میزائل کا تجربہ

اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT

شمالی کوریا کا جدید ترین طیارہ شکن میزائل کا تجربہ

یہ تجربہ اس وقت کیا گیا ہے جب جنوبی کوریا اور امریکہ اپنی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں فریڈم شیلڈ کے نام سے کر رہے تھے، جنہیں دونوں ممالک دفاعی قرار دیتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے ملک کے جدید ترین اینٹی ایئرکرافٹ میزائل سسٹم کے تجربے کی نگرانی کی۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق کم جونگ ان نے اس سسٹم کے لیے ریسرچ گروپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تجربے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام انتہائی قابل اعتماد ہے۔ رپورٹس کے مطابق، شمالی کوریا کی میزائل انتظامیہ نے یہ تجربہ ایک ایسے سسٹم کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کیا تھا جس کی پیداوار پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ تاہم یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ تجربہ کہاں کیا گیا، اور یہ میزائل کتنے کلومیٹر رینج کا تھا؟ البتہ کہا کہ کم جونگ ان کے ساتھ حکمراں ورکرز پارٹی آف کوریا کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے ارکان بھی موجود تھے۔ یہ تجربہ اس وقت ہوا جب جنوبی کوریا اور امریکہ اپنی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں فریڈم شیلڈ کے نام سے کر رہے تھے، جنہیں دونوں ممالک دفاعی قرار دیتے ہیں۔تاہم، پیانگ یانگ نے ان مشقوں کو لاپرواہی اور جنگ کی ریہرسل قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ شمالی کوریا کی وزارت دفاع کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ مشقیں علاقے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی ہیں اور ان کا مقصد جنوبی کوریا اور امریکہ کی جانب سے شمالی کوریا کے خلاف بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کا جواب دینا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شمالی کوریا یہ تجربہ

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس