لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث بین الاقوامی گینگ کا اہم کارندہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
ایف آئی اے کے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل پشاور نے چھاپہ مار کارروائی میں رواں برس لیبیا کشتی حادثے میں ملوث بین الاقوامی گینگ کا کارندہ گرفتار کرلیا ہے، جس کی شناخت نواب خان کے نام سے ہوئی ہے۔
لیبیا کشتی حادثات میں ملوث عناصر کیخلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے چھاپہ مار کارروائی میں ملزم کے موبائل فون سے ویڈیوز، تصاویر، میسیجز اور بینک ٹرانزیکشنز بھی برآمد کی ہیں،
یہ بھی پڑھیں: انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایف آئی اے کے 13 اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج، 49 نوکری سے فارغ
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق ملزم رواں ماہ لیبیا میں ہونے والے کشتی حادثے میں ملوث ہے، ملزم اور اس کے ساتھی افریقہ اور گلف ممالک سے انسانی اسمگلنگ کا گینگ چلا رہے تھے، ملزم نے دیگر ساتھیوں کی ملی بھگت سے متعدد متاثرین کو یورپ بھجوانے کے لیے بھاری رقوم وصول کیں۔
واضح رہے کہ ملزمان نے شہریوں کو سمندر کے راستے یورپ بھجوانے کی کوشش کی، لیبیا کشتی حادثے میں خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے متعدد شہریوں کی موت واقع ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں: انسانی اسمگلنگ کے عفریت سے نمٹنے کے لیے سینیٹ میں اہم بلز منظور، سخت سزائیں مقرر
گرفتار ملزم نواب خان کے زیر استعمال بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا گیا ہے، جو قانونی کارروائی کے بعد منجمد کر دیے جائیں گے جبکہ بیرون ملک مقیم ایجنٹس تک رسائی کے لیے مالیاتی و دیگر شواہد کی جانچ جاری ہے۔
ایف آئی اے حکام کی ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم افغان شہری ہے، جس نے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کر رکھا تھا، ملزم کی شناخت کی تصدیق کے لیے نادرا سے ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم نے انسانی اسمگلنگ کے سدباب کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کردی
ذرائع کے مطابق ملزم کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے اور ملزم کی جائیدادوں اور اس کے نام پر رجسٹرڈ گاڑیوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم نواب خان منی لانڈرنگ میں بھی ملوث پایا گیا جس کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ ونگ کو تفصیلات فراہم کردی گئی ہیں، انٹرپول کی مدد سے بیرون ملک انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جارہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان انٹرپول انسانی اسمگلنگ ایف آئی اے بینک اکاؤنٹس ترجمان شناختی کارڈ لیبیا کشتی حادثہ منی لانڈرنگ نادرا یورپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان انٹرپول انسانی اسمگلنگ ایف ا ئی اے بینک اکاؤنٹس شناختی کارڈ لیبیا کشتی حادثہ منی لانڈرنگ یورپ انسانی اسمگلنگ ایف ا ئی اے لیبیا کشتی میں ملوث کے مطابق کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف---فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا کردار واضح ہے، 2018ء میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی دوبارہ واپس لائی گئی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ حال ہی میں مستونگ میں سیشن جج کا قتل بھی دہشت گردی کی سنگین مثال ہے، دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کرنا ہے۔
انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے تاہم افسوس کے ساتھ کہا کہ افغان حکومت دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے جبکہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں۔
انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی میں اہم کامیابیاں حاصل کیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے اور بلوچستان کے عوام نے قیامِ پاکستان اور وفاق کے استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر پر کام جاری ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا اور دیگر صوبوں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے چاروں صوبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔
ورکشاپ کے شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی چاروں صوبوں کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہے اور اب ملک کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کا وقت آ گیا ہے۔