3 افراد کی ہلاکت، نوشکی، سوراب، قلات اور خضدار میں ہڑتال
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
— فائل فوٹو
کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ریلی پر فائرنگ سے 3 افراد کی ہلاکت کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی اپیل پر نوشکی، سوراب، قلات اور خضدار میں ہڑتال کی گئی۔
آج ان علاقوں میں کاروباری مراکز اور بازار بند ہیں جبکہ کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دھرنا بھی دیا گیا۔
اس مقام کے ملحقہ علاقوں میں بھی دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں۔
ریڈ زون کی طرف جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر بند کردیے گئے ہیں۔
حکومتِ بلوچستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز پولیس نے روڈ کھلوانے کے یئے قانون کے مطابق کارروائی کی تھی، مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ اور تشدد کیا جس سے لیڈی پولیس کانسٹیبل اور پولیس اہلکاروں سمیت 10افراد زخمی ہوئے تھے
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔