قلات میں مسلح افراد کی فائرنگ سے پنجاب کے 4مزدورجاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
قلات میں مسلح افراد کی فائرنگ سے پنجاب کے 4مزدورجاں بحق WhatsAppFacebookTwitter 0 22 March, 2025 سب نیوز
قلات (سب نیوز)بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگچر میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔لیویز حکام کے مطابق بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگچر میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 4 مزدور جاں بحق ہوگئے، مزدور ٹیوب ویل پر کام کر رہے تھے، فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے مزدوروں کا تعلق پنجاب سے ہے۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے مزدوروں میں 3کا تعلق صادق آباد اور 1کا تعلق رحیم یارخان سے ہے، جاں بحق ہونے والے مزدور صادق آباد سے خضدار میں بورنگ کا کام کرنے کے لیے گئے تھے جن کی شناخت منور ،ذیشان، امین ،اور دلاور کے نام سے ہوئی۔ دوسری جانب ورثا کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشیں کوئٹہ کے ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کردی گئی ہیں۔
علاوہ ازیں واقعہ کی مقتولوں کی اطلاع ملنے کے بعد ان کے آبائی علاقے کی فضا سوگوار ہو گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بی ایل اے کے دہشت گردوں نے کوئٹہ سے پنجاب اور سندھ جانیوالی جعفر ایکسپریس پر بھی حملہ کیا تھا، جس میں 30 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں مسلح افراد کی فائرنگ سے
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔