امریکا: نیو میکسیکو میں فائرنگ، 3 نوجوان ہلاک، 15 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, March 2025 GMT
لاس کروسیس: امریکی ریاست نیو میکسیکو کے شہر لاس کروسیس میں کار شو کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں 3 نوجوان ہلاک اور 15 افراد زخمی ہوگئے۔
لاس کروسیس پولیس کے مطابق فائرنگ جمعہ کی رات 10 بجے اس وقت ہوئی جب دو گروپوں کے درمیان جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں دو 19 سالہ اور ایک 16 سالہ نوجوان شامل ہیں، تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
لاس کروسیس کے میئر ایرک اینریکز نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کمیونٹی سے اتحاد اور مضبوطی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔
فائر چیف مائیکل ڈینیئلز کے مطابق زخمیوں میں سے 7 کو ایڈوانس علاج کے لیے ایلبو، ٹیکساس کے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ 4 کو علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ بقیہ 4 زخمیوں کی حالت تاحال غیر واضح ہے۔
پولیس کے مطابق زخمیوں کی عمریں 16 سے 36 سال کے درمیان ہیں۔ جائے وقوعہ سے ہینڈ گن کے خول برآمد کر لیے گئے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں، تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
نیو میکسیکو کی گورنر میشل لوہان گریشام نے واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاستی وسائل کو بروئے کار لا کر تحقیقات میں تعاون فراہم کریں گی۔
لاس کروسیس امریکہ-میکسیکو بارڈر کے قریب واقع ہے اور ایلبو، ٹیکساس سے 41 میل شمال میں واقع ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس کوئی معلومات ہو تو فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاس کروسیس
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔