پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بروقت کارروائی میں 16 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
پاک افغان سرحد کے قریب شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان کلی میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام 16 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا اس کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی اور جیسے ہی ان کی دراندازی کی کوشش کا پتا چلا فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان کے عزائم خاک میں ملا دیے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 22 اور 23 مارچ کی درمیانی شب دہشت گردوں کے ایک گروہ نے افغانستان کی جانب سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا شدید فائرنگ کے تبادلے میں تمام 16 دہشت گرد ہلاک ہو گئے یہ دہشت گرد پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے تاہم پاک فوج نے ان کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان مسلسل عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اپنی جانب سرحدی نگرانی کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے اور دہشت گرد عناصر کو پاکستانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے سے روکے آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر تیار ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی پاک فوج کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح چوکس ہے اس کامیاب آپریشن پر وزیر اعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کی سلامتی کے لیے جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ قابل قدر ہیں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور ریاست اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ ان کا قلع قمع کرے گی وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرے گی
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز پاک فوج کی کوشش
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی