پارلیمنٹ میں وفاقی وزرا کی غیر حاضری کا مسئلہ حل نہ ہو سکا، صورتحال تشویشناک قرار، ڈپٹی اسپیکر کا وزیراعظم کو خط
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
پارلیمنٹ میں وفاقی وزرا کی غیر حاضری کا مسئلہ حل نہ ہو سکا، صورتحال تشویشناک قرار، ڈپٹی اسپیکر کا وزیراعظم کو خط WhatsAppFacebookTwitter 0 24 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پارلیمنٹ میں وفاقی وزرا کی غیر حاضری کا مسئلہ تاحال حل نہ ہو سکا۔ ڈپٹی اسپیکر نے اس معاملے پر وزیر اعظم اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور کو خط لکھ دیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ وزرا کی ایوان سے غیر حاضری ایک تشویشناک مسئلہ ہے۔
ڈپٹی اسپیکر نے اپنے خط میں 20 وزارتوں، خصوصا توانائی اور مواصلات کے وزرا کی غیر حاضری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ پارلیمانی روایات کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔خط میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ وزرا کی غیر حاضری کے باعث اہم عوامی مسائل پر بحث نہیں ہو سکی، جو کہ ایک سنگین معاملہ ہے۔
ڈپٹی اسپیکر نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو فوری طور پر حل کیا جائے کیونکہ وزرا کی عدم دلچسپی کے باعث ایوان کی کارروائی کا مقصد متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے اپنے خط میں اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ آئین کے مطابق کابینہ اجتماعی طور پر اراکین کے سوالات کے جوابات دینے کی پابند ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزرا کی غیر حاضری کا ڈپٹی اسپیکر
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔