اکوڑہ خٹک میں تاجر ڈکیتی مزاحمت پر قتل، ملزمان 30 لاکھ لے گئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
تاجر نے اپنی کمائی جاتا دیکھ کر مزاحمت کی جس پر سفاک ملزمان نے فائرنگ کرے اسے موقع پر ہی قتل کردیا اور رقم چھین کر فرار ہوگئے، اکوڑہ خٹک پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی۔ اسلام ٹائمز۔ ضلع نوشہرہ کے علاقہ اکوڑہ خٹک کی حدود میں رہزنوں نے کپڑے کے تاجر سے 30 لاکھ روپے لوٹ لیے اور مزاحمت پر اسے قتل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق تاجر 30 لاکھ روپے کی رقم لے کر جارہا تھا کہ بائیک سوار ملزمان نے اسے روکا اور رقم چھیننے کی کوشش کی، تاجر نے اپنی کمائی جاتا دیکھ کر مزاحمت کی جس پر سفاک ملزمان نے فائرنگ کرے اسے موقع پر ہی قتل کردیا اور رقم چھین کر فرار ہوگئے، اکوڑہ خٹک پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اکوڑہ خٹک
پڑھیں:
چین نے پاکستان کے لئے لاکھوں ڈالر کی رقم جاری کردی
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: چین نے صوبہ پنجاب میں معاشی اور تکنیکی تعاون کے منصوبے کے لیے 20 لاکھ امریکی ڈالر کی رقم جاری کر دی ہے۔ یہ تازہ ادائیگی بیجنگ کے پاکستان میں صوبائی ترقی اور ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے کےپروگراموں میں مسلسل مالی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق وزارتِ اقتصادی امور کی جاری کردہ رپورٹ کے حوالے سے لکھا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے تکنیکی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری ترقیاتی تعاون کو مستحکم کرنے پر مرکوز ہے۔
ذرائع کے مطابق ستمبر 2025 کے دوران چین کی مجموعی ادائیگیاں تقریباً 20 لاکھ ڈالر رہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران چین کی مجموعی معاونت، جس میں گرانٹس اور قرضے دونوں شامل ہیں، 97.5 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔پنجاب کے منصوبے کے علاوہ، چین نے ملک کے مختلف علاقوں میں اہم تعمیرِ نو اور بحالی کے منصوبوں کے لیے مالی تعاون جاری رکھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں خیبر پختونخوا کے ضلع باڑہ میں مکمل طور پر تباہ شدہ اسکولوں کی تعمیر نو کے لیے 44.7 لاکھ ڈالر، بلوچستان میں مکانات کی تعمیر کے لیے 60 لاکھ ڈالر، اور پاکستان کے نئے جیوڈیٹک ڈیٹم کے قیام کے لیے 10.8 لاکھ ڈالر شامل ہیں۔چین قومی اہمیت کے حامل کئی بڑے منصوبوں میں بھی شراکت دار ہے، جن میں شاہراہِ قراقرم (ٹھاکوٹ تا رائیکوٹ سیکشن) کی منتقلی، پاکستان اسپیس سینٹر(سپارکو ) کا قیام اور قائداعظم یونیورسٹی میں چین-پاکستان جوائنٹ ریسرچ سینٹر برائے ارضی سائنسز کا قیام شامل ہے۔
یہ تمام منصوبے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور سائنسی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے وسیع تر ترقیاتی شراکت داری کا حصہ ہیں۔