خیبر پختونخوا میں پرائمری اور سیکنڈری اسکول ٹیچنگ کی نوکریوں کے لیے 2 لاکھ 18 ہزار سے زائد پی ایچ ڈی ہولڈرز کی درخواستیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا میں پرائمری اور سیکنڈری اسکول ٹیچنگ کی آسامیوں کے لیے حیران کن طور پر حد زیادہ تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، بشمول پی ایچ ڈی ہولڈرز، نے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مجموعی طور پر 948,214 درخواست دہندگان میں سے 218,088 افراد پی ایچ ڈی ڈگری رکھتے ہیں، جو تعلیم کے شعبے میں نوکری کی تلاش میں حد سے زیادہ تعلیم یافتہ امیدواروں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
درخواست دہندگان کی تعلیمی قابلیت کی تفصیلٹیچنگ کی آسامیوں کے لیے مختلف تعلیمی قابلیت کے حامل افراد نے درخواستیں دی ہیں:
| پی ایچ ڈی | 23% | 218,088 |
| ایم فل | 47% | 445,662 |
| بی ایس (آنرز) | 25% | 237,054 |
| بی اے/اے ڈی ای/ایف ایس سی | 5% | 47,411 |
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تعلیم یافتہ افراد کی بڑی تعداد ان آسامیوں کے لیے درخواست دے رہی ہے، جو عموماً کم تعلیمی قابلیت کے حامل افراد کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔ پی ایچ ڈی اور ایم فل امیدواروں کی غیر معمولی تعداد پاکستان میں ملازمت کے موجودہ منظرنامے کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتی ہے۔
مزیدپڑھیں:کابینہ اراکین کی تنخواہوں کا معاملہ، حقیقت کیا ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: درخواست دہندگان تعلیمی قابلیت پی ایچ ڈی کے لیے
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں