لاہور:

پنجاب میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باعث اموات کی تعداد 118 تک پہنچ گئی جبکہ اب تک 47 لاکھ 23 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔

ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق دریائے راوی، ستلج اور چناب میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث 4ہزار 700 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے۔

ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق سیلاب میں پھنس جانے والے 26 لاکھ 11 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ شدید سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 337 ریلیف کیمپس اور 492 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔

مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 368 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں 20 لاکھ 89 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق منگلا ڈیم 95 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے۔ دریائے ستلج پر موجود انڈین بھاکڑا ڈیم 88 فیصد تک بھر چکا ہے، پونگ ڈیم 94 فیصد جبکہ تھین ڈیم 88 فیصد تک بھر چکا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔ سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا جلد آغاز کر دیا جائے گا، سروے مکمل ہونے پر شفافیت اور آسان طریقہ کار سے شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے باعث

پڑھیں:

رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔

ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

اس کے ساتھ ہی جائیداد کی فروخت پر لاگو 4.5 فیصد ٹیکس کو بھی گھٹا کر 1.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔

حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جہاں بین الاقوامی ادارے کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات اور مخالفت کا سامنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود حکومتی سطح پر ان تجاویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق ٹیکسوں کی شرح میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں مندی کا خاتمہ ہوگا اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تعمیراتی شعبے میں روزگار بڑھے گا اور مجموعی طور پر قومی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود