چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا ہے کہ جو لوگ پاکستان کو اسلامی ریاست نہیں سمجھتے ہیں وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں، ان سے کسی لیول پر بات چیت نہیں ہونی چاہیے۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کے لیے لفظ خوارج استعمال کیا جارہا ہے یہ باغی ہیں، ایسے لوگوں کے لیے پوری دنیا میں ایک ہی قانون ہے کہ ان کا وجود ہی ختم کردیا جائے، یہ لوگ تو یہاں بسنے والوں کو مسلمان ہی نہیں گردانتے۔

یہ بھی پڑھیں وی پی این کو حرام یا شرعی طور پر ناجائز نہیں کہا، ٹائپنگ کی غلطی ہوئی، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہاکہ ہمسایہ ممالک کی جانب سے ان باغیوں کی پشت پناہی کی جارہی ہے، یہ خوارج پہلے اپنی کمین گاہوں میں چھپ گئے تھے اور اب دوبارہ طاقت ملنے پر پاکستان پر حملے کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یہ لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں، کیوں کہ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز ہی نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کا خون بہائے۔ ان لوگوں کے پاس ایسی کوئی دلیل نہیں کہ نہتے معصوم لوگوں کے قتل کو جائز قرار دے سکیں۔

خوارج کے خلاف آپریشن ٹیکنیکل بنیادوں پر ہونا چاہیے

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہاکہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ٹیکنیکل بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ پہلے مکمل تسلی کرلینی چاہیے کہ کس علاقے میں خوارج کی سپورٹ کی جارہی ہے، اور جب مکمل آگاہی ہو جائے تو پھر آپریشن کرتے ہوئے مصلحت سے کام نہیں لینا چاہیے۔

ریاست کو گڈ اینڈ بیڈ کی تقسیم کو ختم کرنا چاہیے

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہاکہ ریاست کو گُڈ اور بیڈ کی تقسیم کو ختم کرنا ہوگا، اگر ایک شخص کسی اور ملک میں دہشتگردی کرتا ہے تو وہ یہاں پر کیسے اچھا ہو سکتا ہے۔ علما ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وی پی این کو حرام قرار دینے کا معاملہ ٹائپنگ کی غلطی تھی

ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے وی پی این کو حرام قرار نہیں دیا گیا، بلکہ اس کے ذریعے چلنے والی بیہودہ ویب سائٹس کو حرام قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی وی پی این کے حوالے سے فیصلہ دیا اس پر تو کوئی شور غوغا نہیں ہوا مگر اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے بہت پروپیگنڈا کیا گیا، سوچنا ہوگا سوشل میڈیا کی سائٹس کس طرح ہمیں حرام کی طرف لے جارہی ہیں۔

ٹوئٹر، یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام کا غلط استعمال شرعی طور پر حرام ہے

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر، فیس بک، انسٹا گرام، یوٹیوب کا وہ استعمال جو ہمیں حرام کی طرف راغب کرے، شرعی طور پر حرام ہے۔

یہ بھی پڑھیں وی پی این نہیں، اس کا غلط استعمال غیر شرعی اور غیرقانونی ہے، راغب نعیمی

انہوں نے کہاکہ میں سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتا، صرف واٹس ایپ استعمال کرتا ہوں، کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ بھی ختم کردیا، جبکہ ٹوئٹر کبھی استعمال ہی نہیں کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آپریشن اسلامی ریاست اسلامی نظریاتی کونسل خوارج دہشتگرد ریاست پاکستان علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی مذاکرات وی پی این وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلامی ریاست اسلامی نظریاتی کونسل خوارج دہشتگرد ریاست پاکستان علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی مذاکرات وی پی این وی نیوز اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی نے انہوں نے کہاکہ لوگوں کے کو حرام کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ