ہم ہرگز یورپ کو اسنیپ بیک کا استعمال نہیں کرنے دینگے، محمد اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
اپنے ایک انٹرویو میں ایرانی جوہری پروگرام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چونکہ امریکہ و یورپ نے خود اپنے وعدے پورے نہیں کئے اسلئے قانونی طور پر ان کے پاس اسنیپ بیک فعال کرنے کا حق نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی جوہری پروگرام کے سربراہ "محمد اسلامی" اس وقت "ویانا" میں IAEA کی 69ویں جنرل کانفرنس میں شرکت کے لئے موجود ہیں۔ جہاں انہوں نے آج ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ تین یورپی ممالک (جرمنی، فرانس، برطانیہ) ایرانی قوم کے مقروض ہیں کیونکہ انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے Joint Comprehensive Plan of Action (JCPOA) میں اپنے وعدے پورے نہیں کئے۔ اب انہیں یہ حق نہیں کہ وہ اپنی پوزیشن بدل کر ایران سے مطالبات کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اسنیپ بیک" کا استعمال قابل مذمت ہے اور ہم انہیں ایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ چونکہ انہوں نے خود اپنے وعدے پورے نہیں کئے اس لئے قانونی طور پر ان کے پاس اسنیپ بیک فعال کرنے کا حق نہیں۔ محمد اسلامی نے کہا کہ 18 اکتوبر 2025ء کو اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 ختم ہو جائے گی اور یہ ایرانی قوم کا حق ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ IAEA کے طریقہ کار میں كسی بھی جگہ پر فوجی آپشن كے استعمال جیسی کوئی ہدایت یا اصول موجود نہیں۔ اس لئے ایرانی وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان ایک نیا فریم ورک بنانے پر اتفاق ہوا ہے، جس کے بنیادی نکات طے ہو چکے ہیں۔
اب ہمیں اسی سمت میں قدم بڑھانا ہے اور ان شاء اللہ پارلیمنٹ کے قانون کا احترام کرتے ہوئے آئندہ اس پر عملدرآمد کرنا ہے۔ انہوں نے جوہری تنصیبات پر حملے کے بارے میں ایران کی قرارداد کے مسودے کے بارے میں کہا کہ تمام ممالک کو جان لینا چاہئے کہ حفاظتی دستوں کے آرٹیکل 68 کے طریقہ کار کو نازک اور انتہائی کٹھن حالات کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ لیکن جو فوجی حملہ اور جنگ کی صورت حال ہمارے ملک پر آئی، اُس کے لئے کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں۔ محمد اسلامی نے مزید کہا کہ ہم نے اس کانفرنس میں جوہری تنصیبات پر حملے کی ممانعت کے حوالے سے قرارداد پیش کی۔ ہم دنیا کے ممالک سے اس قرارداد کی منظوری کے لئے حمایت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تاہم، امریکہ نے ایک اعلامیہ جاری کیا اور IAEA سے کہا کہ وہ ایران کی قرارداد کو پیش نہ ہونے دے۔ امریکہ نے ایجنسی کو دھمکی دی کہ اگر یہ قرارداد ایجنڈے میں شامل ہوئی اور منظور ہو گئی تو واشنگٹن IAEA کا بجٹ بند کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہی طریقہ اور انداز ایک معتبر دستاویز ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں اب بھی طاقت کی حکمرانی جاری ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ قرارداد منظور ہو جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد اسلامی اسنیپ بیک انہوں نے کے لئے کہا کہ
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز