پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کو ججز اور عدلیہ کی بے عزتی قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کے باجود عمران خان سے ملاقات نہ کراکر آج توہین کی گئی، یہ ہماری نہیں، ججز اور عدلیہ کی بے عزتی ہوئی، عدلیہ کی ساکھ اور عزت کو بچانا ججز کا کام ہے، ہمارا کام نہیں۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شبلی فراز نے کہا کہ عدالتی احکامات کی آج توہین ہوئی، ان احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
اس عدالتی فیصلے پر مل درآمد نہ کرنے سے ہماری بے عزتی نہیں ہوئی، یہ ان ججز اور اس ادارے کی بے عزتی ہوئی ہے، عدلیہ کےادارے کی ساکھ اور عزت کو بچانا انہی ججز کا کام ہے یہ ہمارا کام نہیں ہے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ یہاں پر حسب معمول آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں، عدالتی حکمنامہ کے پیرا 7میں لکھا ہے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ نے عدالت کو ملاقات کی یقین دہانی کرائی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ 4 گھنٹے ہم نے اڈیالہ جیل کے باہر انتظار کیا، متعدد بار جیل انتظامیہ کو آگاہ کیا، حسب معمول انٹیلی جنس کا جو کرنل یہاں بیٹھا ہے، اس کے احکامات پر سپریٹنڈنٹ جیل نے ملاقات نہیں ہونے دی اسکی مذمت کرتے ہیں۔
عمر ایوب نے کہا کہ ہم کہتے ہیں انٹیلی جنس افسران کا کام ہونا چاہیئے وہ جا کر دہشتگردوں کو پکڑیں، ملک میں دہشتگردی کم ہونی چاہیئے، ان کو شرم نہیں آتی کہ مجھ پر بسکٹ چوری کا مقدمہ درج ہے، بلوچستان میں کل جو حالات تھے، لوگوں کو ذدوکوب کیا جا رہا ہے، سیکیورٹی پر معمور لوگ وہاں پر موو نہیں کر سکتے، یہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔
قاتل سے ملنے جیل آنے والوں کو وزٹر سینٹر میں بٹھایا جاتا ہے، ہم گیٹ پر کھڑے رہتے ہیں، ہمیں ذلیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ہماری ملاقات نہیں ہوئی، اس لئے ہم یہاں میڈیا ٹاک کر رہے ہیں۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کی آج توہین ہوئی ان احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، اس عدالتی فیصلے پر مل درآمد نہ کرنے سے ہماری بے عزتی نہیں ہوئی، یہ ان ججز اور اس ادارے کی بے عزتی ہوئی ہے، عدلیہ کےادارے کی ساکھ اور عزت کو بچانا انہی ججز کا کام ہے یہ ہمارا کام نہیں ہے۔
سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ لارجر بنچ کے تین ججز کو مبارکباد پیش کرنی ہے،جس طرح جیل انتظامیہ نے ان کی عزت افزائی کی، ہم اس معاملہ کو ایسے نہیں جانے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سربازار تین ججز کے فیصلے کی جو بے توقیری کی گئی اس پر آپ مبارکباد قبول کریں ، ہائیکورٹ کے لارجر بنچ کے فیصلے سے جیل کا سپریٹنڈنٹ اور بیٹھا کرنل طاقتور ہے۔
ترجمان بانی پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج اک فیصلہ عدلیہ کے لئے بہت بڑا سوال ہے، جیل انتظامیہ کا عدالتی فیصلہ کا نہ ماننا اب عدلیہ کی ساکھ کا سوال ہے، ہم آج ملاقات نہ کروائے جانے کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن فائنل کریں گے، بانی کا وجود اس ملک اور ریاست کے لئے لازم و ملزوم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی بے عزتی ملاقات نہ نے کہا کہ عدلیہ کی کے باہر کی ساکھ ججز اور کا کام
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش