ویب ڈیسک:وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کا کہنا ہے ‎افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پاکستان کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔

 معروف امریکی تھنک ٹینک کارنیگی انڈوومنٹ فار انٹرنیشنل پیس میں گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی طارق فاطمی کا کہنا تھا ‎منفرد مقام و حیثیت کے حامل پاکستان کو کسی بھی غیر ملکی یا علاقائی عدسے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

فیس بک میں بڑی تبدیلی کا اعلان

 طارق فاطمی کا کہنا تھا ‎افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پاکستان کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں، امریکا پاکستان کو کسی بھی غیر ملکی یا علاقائی عدسے سے دیکھنے کے بجائے آزادانہ طور پر دیکھے۔

 وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی نے پاک امریکا تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے سے متعلق مواقعوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا امریکی سرمایہ کار پاکستان کا دورہ کریں اور میسر مواقعوں سے استفادہ حاصل کریں۔

صائم ایوب پی ایس ایل 10 کا حصہ ہونگے یا نہیں؟ فیصلہ آج متوقع

 طارق فاطمی کا کہنا تھا چیلنجز کے باوجود پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک امید افزا اور منافع بخش منزل ہے۔

 قبل ازیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی نے واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے پاک امریکا تعلقات، دوطرفہ تعاون اور معاشی تعلقات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی۔

 ‎انٹرایکٹو سیشن کے دوران معاونِ خصوصی نے پاک امریکہ تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے موجود مواقعوں کو اجاگر کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے ملک کی معدنی دولت اور کاروباری برادری کی سہولت کاری کے لئے قائم کردہ خصوصی سرمایہ کاری کونسل کے اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی -

سٹی @ 10 ، 28 مارچ ،2025

 انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں کی  حوصلہ افزائی کی کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں اور میسر مواقعوں سے استفادہ کریں۔  انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات، سرحدی کنٹرول اور سرمایہ کاروں کے لیے مستحکم ماحول کو یقینی بنانے کی کوششوں پر بھی بات کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چیلنجز کے باوجود پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک امید افزا اور منافع بخش منزل ہے۔
‎اپنے خطاب کے اختتام پر، سید طارق فاطمی نے پرامن جنوبی ایشیا کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم، صحت اور اقتصادی ترقی میں معاونت کرے تاکہ دوطرفہ تعاون کو باہمی مفاد کی  طویل المدتی شراکت داری میں تبدیل کیا جا سکے۔

افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کی واپسی کے عمل میں صوبائی حکومتوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائیگا؛ وزیر داخلہ

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار