امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے دورے پر روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں خطے کو درپیش متعدد مسائل پر کھل کر رائے دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ برطانوی بادشاہ چارلس سوم میرے بہت اچھے دوست ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے برطانیہ کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں اور یہ دورہ دونوں ممالک کو مزید قریب لائے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ میں نے دنیا کی 7 خطرناک جنگیں رکوائیں جن میں سے 4 جنگیں ٹیرف کی مدد سے رکوائیں۔

صدر ٹرمپ نے یوکرین جنگ پر کہا کہ مسئلہ یہ ہے نیٹو اور یورپی یونین روس سے تیل خرید رہے ہیں اگر وہ ایسا کرنا بند کردیں تو میں روس پر پابندیاں لگا سکتا ہوں۔

غزہ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کے غزہ سٹی میں جاری ملٹری آپریشن کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا، اسے دیکھنا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے امریکی معیشت اور ٹیرف پابندیوں پر اس کے اثرات سے متعلق سوال پر پالیسی بیان دیا کہ فیڈرل ریزرو کو آزاد ہونا چاہیے۔

چین سے متعلق سوال پر انھوں نے بتایا کہ ٹک ٹاک پر معاہدہ طے پا گیا، کئی کمپنیاں اسے خریدنے کی خواہش مند ہیں۔

واضح رہے کہ ٹک ٹاک کی بندش کے حوالے سے چین اور امریکا کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جو اب کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے والی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی صدر

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل