زمین کو بچوں کیلئے محفوظ بنانا اولین ترجیح ہے : مریم نواز شریف
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اوزون کے تحفظ کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ زمین کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ان کا کہنا تھا کہ اوزون ہماری فضا اور ماحولیات کی محافظ ہے اور اسے بچانا پوری انسانیت کا سب سے اہم فریضہ ہے انہوں نے کہا کہ اوزون کی تباہی کے نتیجے میں امراض میں اضافہ ہوگا زرعی فصلیں متاثر ہوں گی اور نئی نسل کے مستقبل کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے مریم نواز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے بارشوں کے انداز کو بدل دیا ہے جس کا خمیازہ پنجاب حالیہ تباہ کن سیلابوں کی صورت میں بھگت رہا ہے پہلی بار پنجاب کے لیے ایک جامع ماحولیاتی پالیسی تشکیل دی گئی ہے تاکہ زمین کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ماحول دوست الیکٹرو بسیں متعارف کروائی گئی ہیں جو کلین انرجی پر چلتی ہیں اور آلودگی کو کم کرتی ہیں وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ پلانٹ فار پاکستان مہم کے ذریعے بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جا رہی ہے تاکہ فضا کو دوبارہ سانس لینے کے قابل بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ پنجاب تیزی سے گرین انرجی سولرائزیشن اور ماحول دوست منصوبوں کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اوزون پروٹیکشن صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ فضا پانی اور زمین کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں مریم نواز نے کہا کہ پنجاب سرسبز صاف اور محفوظ مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ سفر اب کسی صورت رکنے والا نہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے زمین کو کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔