لاہور:

الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے این ڈی ایم اے کی زیر سرپرستی اہل فلسطین کے لیے مزید امدادی سامان غزہ روانہ کردیا گیا۔

حکومت پاکستان نے این ڈی ایم اے کے تحت غزہ کے لیے مزیدامدادی سامان روانہ  کردیا۔ اہل فلسطین کے لیے امداد کی یہ نئی کھیپ الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے لاہور سے غزہ کے لیے روانہ  کی گئی ہے۔

علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیر پور ٹ لاہور سے 100 ٹن سامان پر مشتمل مجموعی طور پر22ویں کھیپ بذریعہ خصوصی پروازروانہ کی گئی، جس میں راشن بیگزبشمول آٹا، چاول،کوکنگ آئل، چنے، تیار کھانا اور ڈبہ بند فروٹ شامل ہیں۔

اب تک 22امدادی کھیپوں کے ذریعے بھیجی گئی امداد کا مجموعی وزن2127 ٹن ہے۔

سامان روانگی کی تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ، اس موقع پر حکومتی نمائندے اوراین ڈی ایم اے کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

مریم نواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کے دل فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ غزہ کے بے گناہ مسلمانوں پر مظالم سے ہر حساس دل مضطرب ہے۔ امدادی سامان اہل پاکستان کی طرف سے غزہ کے عوام کے لیے پیغام محبت ہے ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے سامان کی فوری روانگی یقینی بنانے پر این ڈی ایم اے اور دیگر فلاحی اداورں کی کوششوں کو سراہا اوران کا شکریہ ادا کیا۔  انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں فلسطین کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈی ایم اے کے لیے غزہ کے

پڑھیں:

پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • ’بیگز کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے کا سامان نکال لیا گیا‘، لکھنؤ ایئرپورٹ پر حجاج کے ساتھ بڑی چوری
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ