مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف لندن روانہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف لندن کے لئے روانہ ہوگئے ، جہاں وہ معمول کا طبی معائنہ کرائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف پیر کی صبح لاہور سے غیر ملکی ایئر لائن کے ذریعے لندن روانہ ہوگئے۔
خاندانی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف تقریباً دو ہفتے لندن میں قیام کریں گے جہاں ان کے مختلف میڈیکل ٹیسٹ اور چیک اپس ہوں گے، یہ دورہ ان کے باقاعدہ علاج اور میڈیکل مانیٹرنگ کا حصہ ہے۔
حالیہ دنوں میں ن لیگی صدر نے لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز کا دورہ کیا تھا، جہاں گردن اور پٹھوں کے درد کی شکایت پر ان کا ایم آر آئی ٹیسٹ کیا گیا۔
ڈاکٹروں نے انہیں مزید تفصیلی معائنے کے لیے لندن جانے کا مشورہ دیا تھا ۔
واضح رہے کہ ن لیگی صدر اس سے قبل جون میں بھی علاج معالجے کے لیے لندن گئے تھے، چند ماہ میں یہ ان کا دوسرا طبی دورہ ہے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نواز شریف
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔