چئیرمین ایم ڈبلیو ایم نے سردار اختر مینگل کی زیر قیادت لکپاس کے مقام پر جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہمیشہ دو طبقے رہے ہیں ایک ظالم اور دوسرا مظلوم۔ ہم ہر مظلوم کے حامی اور ہر ظالم کے خلاف ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی زیر قیادت لکپاس کے مقام پر جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہمیشہ دو طبقے رہے ہیں ایک ظالم اور دوسرا مظلوم۔ ہم ہر مظلوم کے حامی اور ہر ظالم کے خلاف ہیں۔ مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ہمیشہ ظالم کے خلاف کھڑے ہو اور مظلوم کے مددگار بنو۔ آج جب دنیا کے تمام ظالم ایک ہو چکے ہیں، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم سب مظلوم متحد ہوں اور اپنی جدوجہد کو منظم کریں۔ ‏میں آپ کے سامنے ہوں، میرے کئی ساتھی اور دوست گزشتہ دس سال سے لاپتہ ہیں۔ اس لاقانونیت اور ظلم کے خلاف ہمیں مل کر آواز بلند کرنی ہوگی۔ پنجاب سمیت پاکستان بھر کے عوام اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام غیرت مند، باشعور اور بہادر ہیں، اور وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم پر ایسے عناصر کو مسلط کر دیا گیا ہے جو ظلم و جبر کے ذریعے عوام کے حقوق سلب کر رہے ہیں۔ ان بے بصیرت کرپٹ وطن دشمن حکمرانوں نے ماضی کے سانحات، خصوصاً مشرقی پاکستان کے المیے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‏ماہ رنگ بلوچ ہماری قوم کی بیٹی ہے، اور کوئی بھی غیرت مند معاشرہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا سلوک برداشت نہیں کرتا۔ اسلام آباد میں بلوچ بیٹیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا، ہم نے اس وقت بھی اس کی مذمت کی، دھرنے میں جا کر ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کے سروں پر چادر رکھی۔ ہم آپ کے درد کو محسوس کرتے ہیں، کیونکہ اس وقت پورے پاکستان کے عوام ظلم کا شکار ہیں۔ ‏اب وقت آ چکا ہے کہ وطن عزیز کی بقا کے لیے ہم سب مظلوم ایک ہو جائیں اور ان وطن دشمنوں کا مقابلہ کریں۔ بلوچستان کی ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں پورے پاکستان کے لیے ایک مثال ہیں۔ ہمیں اپنے حقوق کے لیے گھروں سے نکلنا ہوگا، ورنہ یہ ظالم باقی ماندہ پاکستان کو بھی برباد کر دیں گے۔ ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے اور ان ظالموں کو روکنا ہے۔ ‏اور اے ظالمو! سن لو، جب کسی تحریک میں خواتین شامل ہو جائیں، تو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ ہمیں متحد رہنا ہے، کیونکہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے عوام کا اس پر سب سے زیادہ حق ہے۔ ان شاء اللہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ان ظالموں کو روکے گی اور وطن عزیز کو امن و انصاف کا گہوارہ بنائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان کے رہے ہیں کے خلاف کے ساتھ کے عوام اور ان کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت