اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 اپریل ۔2025 )وزیراعظم نے وفاقی کابینہ میں توسیع اور قلمدانوں میں ردوبدل کے بعد اہم فیصلہ کرتے ہوئے 4کابینہ کمیٹیوں کی تشکیل نوکردی، تمام کمیٹیوں کے چیئرمین برقرار، وزرا کے پورٹ فولیو میں ردو بدل کے باعث کمیٹیوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں.

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے جن کابینہ کمیٹیوں کی تشکیل نو کی ہے ان میں اقتصادی رابطہ کمیٹی، قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی، کابینہ کمیٹی امیگریشن اوورسیز ایمپلایمنٹ اینڈٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈٹریننگ اور کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات شامل ہیں وزیراعظم کابینہ کمیٹی امیگریشن اوورسیز ایمپلایمنٹ اینڈ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈٹریننگ کے چیئرمین برقرار رہیں گے، اس کمیٹی میں نائب وزیراعظم، وزیرتجارت، وزیر تعلیم وتربیت، داخلہ، صحت اور وزیر سمندرپار پاکستانیز شامل ہیں.

کمیٹی میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار کی رکنیت ختم کردی گئی ہے کیوں کہ وزیراعظم نے حال ہی میں وفاقی وزیررانا تنویر سے صنعت و پیداوار کا قلمدان واپس لے لیا تھا،اس وقت صنعت وپیداوار کا کوئی وفاقی وزیر نہیں ہے تاہم ہارون اختر خان وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت وپیداوار ہیں وزیر خزانہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی) کے چیئرمین برقرار رہیں گے جبکہ وفاقی وزیر تجارت، وزیر اقتصادی امور، وزیر پیٹرولیم، وزیر پاور، وزیر منصوبہ بندی اور وفاقی نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر اسی سی سی کا حصہ ہیں.

وزیر اعظم نے حال ہی میں وفاقی وزیررانا تنویرکونیشنل فوڈ سیکیورٹی کا مستقل بنیادوں پرقلمدان تفویض کیا تھا،اس سے قبل رانا تنویر کے پاس نیشنل فوڈسیکیورٹی کا اضافی قلمدان تھا اسی طرح وفاقی وزیر قانون و انصاف قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے چیئرمین برقرار رہیں گے، یہ کمیٹی تجارت، اقتصادی امور، اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزرا پر مشتمل ہے جبکہ نیشنل فوڈ سیکیورٹی، سمندر پار پاکستانیز اور پارلیمانی امور کے وفاقی وزرا بھی اس کمیٹی میں شامل ہیں.

قبل ازیںقانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی میں پارلیمانی امور اور نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے وزرا شامل نہیں تھے، وزیراعظم نے گزشتہ ماہ طارق فضل چوہدری کو پارلیمانی امور کا قلمدان تفویض کیا تھا، اس سے پہلے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے پاس پارلیمانی امور کا اضافی قلمدان تھا،قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی میں وفاقی وزیر صنعت وپیداوار کی رکنیت ختم کردی گئی ہے.

وفاقی وزیر سرمایہ کاری کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کے چیئرمین برقرار رہیں گے، وزیر تجارت اس کمیٹی کے واحد رکن ہوں گے، ریگولیٹری اصلاحات کمیٹی میں وفاقی وزیرصنعت وپیداوار اور وزیر مملکت خزانہ کی رکنیت ختم کردی گئی ہے کیوں کہ وزیر اعظم نے حال ہی میں وزیرمملکت خزانہ علی پرویز ملک کو وفاقی وزیر بننے کے بعد وزارت پیٹرولیم کا قلمدان سونپ دیا تھا.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے چیئرمین برقرار رہیں گے پارلیمانی امور میں وفاقی وزیر کمیٹی میں

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ