کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 اپریل ۔2025 ) پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تاریخی مندی کے بعد آج منگل کے روز پی ایس ایکس میں کاروبار کے آغازپر مارکیٹ قدرے سنبھلی ہوئی نظر آئی دوپہر تک کے ایس سی 100 انڈیکس تقریباً 1628 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 116538 پر کھڑی ہے.

(جاری ہے)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعدد ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے دنیا بھر کے بازارحصص میں بھونچال کی سی کیفیت پیدا کر دی تھی اور پاکستان سمیت ایشیا اور یورپ کی متعدد مارکیٹس میں شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا پیرکے روز کاروبار کے آغاز کے کچھ ہی دیر بعد کے ایس ای 100 انڈیکس میں 6287 پوائنٹس کی تاریخی کمی کے بعد کاروبار کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑا تاہم دن کے اختتام تک مارکیٹ میں بہتری کے کچھ آثار دیکھنے میں آئے اور 100 انڈیکس گذشتہ کاروباری دن کے مقابلے میں تقریباً 3900 پوائنٹس کی مجموعی کمی کے بعد 114909 پر بند ہوا آج منگل کے روز پاکستان سمیت ایشیا اور یورپ کی متعدد مارکیٹوں میں صورتحال میں قدرے بہتر نظر آ رہی ہے.

کاروبارکے آغاز سے اب تک کے ایس سی 100 انڈیکس میں تقریباً 1628 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے اور مارکیٹ اس وقت 116538 پوائنٹس پر کھڑی ہے یہ تقریباً 1.42 فیصد کا اضافہ ہے یورپ کی متعدد مارکیٹوں میں بھی کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا ہے برطانیہ کی فنانشل ٹائمز سٹاک ایکسچینج میں 1.1 فیصد کا اضآفہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ جرمنی کا حصص بازار ڈیکس 0.6 فیصد اوپر گیا ہے فرانس کی سٹاک مارکیٹ کیک 40 میں 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا.

یورپی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اس صورتحال کو خوش آئند تو قرار دیتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے ہارگریس لانس ڈاﺅن سے منسلک سینئر ایکویٹی تجزیہ کار میٹ برٹزمین کہتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشکلات ختم ہو گئی ہیں خاص طور پر جب دیکھا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ تجارتی عدم توازن کے متعلق اپنے موقف پر اب بھی قائم ہیں اور چین پر دباﺅ پر بڑھا رہے ہیں تاہم برٹزمین کہتے ہیں امریکہ اور جاپان کے مابین تجارتی معاملات پر ہونے والے مذاکرات سے امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے.

دوسری جانب تین دن سے جاری حصص کی فروخت کے رجحان کے بعد جاپان کی نکئی 225 انڈیکس میں آج کاروبار کا آغاز چھ فیصد اضافے کے ساتھ ہوا گذشتہ روز 13 فیصد کمی کے بعد آج ہانگ کانگ کے ہانگ سینگ میں دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے بازاروں میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ تائیوان اور سنگاپور میں نقصانات کا رجحان جاری رہا چین کی شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں کاروبار کا آغاز فلیٹ رہا .

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ریکارڈ کیا انڈیکس میں کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹاک مارکیٹ میں مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ