ترجمان جے یو آئی سندھ نے کہا کہ جے یو آئی کی جانب سے 10 اپریل کو مسئلہ فلسطین پر کنونشن منعقد ہوگا جس میں تمام مکاتب فکر کے قائدین شرکت کریں گے جبکہ 13 اپریل کو کراچی میں تاریخ ساز دھرنا دیکر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار اور دنیا کو پیغام دیا جائے گا کہ پاکستان کا ہر فرد اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعيت علماء اسلام سندھ کے ترجمان ڈاکٹر اے جی انصاری نے کہا ہے کہ غزہ کے مسلمانوں پر اسرائیلی صیہونی قوتوں نے مظالم کے پہاڑ ڈھا دیئے ہیں، اسرائیلی دہشت گرد غزہ کے معصوم لوگوں کا قتل عام کررہے ہیں لیکن انسانی حقوق کے علمبردار مظلوموں کا ساتھ دینے کے بجائے دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے ہیں، جے یو آئی کی جانب سے 13 اپریل کو کراچی میں اسرائیل مردہ باد تاریخی مظاہرہ ہوگا جس میں سندھ بھر سے لاکھوں کارکنان و عوام شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین جل رہا ہے معصوم بچے تڑپ رہے ہیں لیکن اسلامی ممالک کے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو اس وقت اپنے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کی جانب سے 10 اپریل کو مسئلہ فلسطین پر کنونشن منعقد ہوگا جس میں تمام مکاتب فکر کے قائدین شرکت کریں گے جبکہ 13 اپریل کو کراچی میں تاریخ ساز دھرنا دیکر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار اور دنیا کو پیغام دیا جائے گا کہ پاکستان کا ہر فرد اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ جے یو آئی رہنما نے کہا کہ اسرائیل نے امن معاہدے کو توڑ کر فلسطینی مسلمانوں پر بمباری شروع کرکے شب خون مارا ہے، غزہ میں جو مظالم ہورہے ہیں وہ تاریخ کے صفحات پر سیاہ دھبوں کیسوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیتن ہاہو جنگی مجرم ہے جس کو گرفتار کرکے عالمی عدالت میں پیش کیا جائے اور مظلوم فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کو بند کرایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ جے یو آئی اپریل کو

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • یہودی آبادکاروں اور فلسطینیوں میں جھڑپ؛ اسرائیلی فوج کا میجر اور سپاہی ہلاک
  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے