بیجنگ : چین کی وزارت خارجہ نے ایک مختصر ویڈیو جاری کی جس میں ایک فکر انگیز سوال اٹھایا گیا تھا۔سوال یہ تھا کہ کیا آپ “تشدد، بالادستی، جبر، اشتعال انگیزی اور محصولات کی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں، یا ایک ایسی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں جہاں کوئی جنگ نہ ہو، تمام حجم کے ممالک برابر ہوں اور ہم آہنگی کے ساتھ رہیں؟

” یہ مسئلہ ایک آئینے کی طرح موجودہ عالمی صورتحال کی بے چینی اور پیجیدگی کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر حالیہ امریکی ٹیرف پالیسی کی وجہ سے شروع ہونے والے سلسلہ وار مسائل لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں جنہوں نے عالمی معاشی نظام میں شدید افراتفری پیدا کردی ہے ۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکہ نے “ٹیرف کا بحران” پیدا کیا ہے۔ 1930 میں ، امریکہ نے سموٹ ہولی ٹیرف ایکٹ نافذ کیا اور 20،000 سے زیادہ درآمدی اشیاء پر محصولات میں نمایاں اضافہ کیا ، جس سے عالمی تجارت 66 فیصد تک سکڑ گئی تھی اور امریکہ بھی گریٹ ڈپریشن کےدور میں چلا گیا تھا ۔

تاریخ خود کو حیرت انگیز طور پر دہراتی ہے۔ امریکی حکومت کی طرف سے محصولات کا حالیہ سلسلہ عالمی معاشی نظام میں ایک بہت بڑا بحران پیدا کر رہا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ کو اس سے فائد ہ ہوا ہے ؟اس کا جواب ہے ،نہیں ۔
امریکہ پوری دنیا پر پابندیاں عائد کرکے دوسرے ممالک کو گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ غنڈہ گردی کے آگے جھکنے سے غنڈہ گردی کی راہ ہموار ہو گی اور سلسلہ رکے گا نہیں ۔ امریکہ کی نظر میں اس کے “حریف” چین سے لے کر اس کے”اتحادی” یورپی یونین اور پھر “اچھا پڑوسی ” کینیڈا تک نے یکے بعد دیگرے امریکہ کے خلاف جوابی اقدامات اٹھائے ہیں جس پر دنیا کو حیرت نہیں ۔ اقوام متحدہ سے لے کر ڈبلیو ٹی او تک اور پھر بڑے اور چھوٹے تمام ممالک میں امریکہ پر تنقید دیکھی اور سنی جا رہی ہے ۔

امریکی عوام ایک طرف تو اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ کر رہے ہیں، تو دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ پر امریکہ کی ساکھ خراب کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ جبکہ اسٹاک مارکیٹ کی گراوٹ اور بڑھتی ہوئی لاگت سے پریشان امریکی کمپنیاں ٹرمپ حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہی ہیں

” امریکہ کے بھاری محصولات پوری دنیا کے خلاف اقتصادی جوہری جنگ لڑنے کے مترادف ہیں”۔امریکی ارب پتی اور نامور ہیج فنڈ مینیجر بل ایکمین  ، جو خود ٹرمپ کے حامی بھی ہیں، نے یہ بات کہی۔ ان کے الفاظ میں، “ایک معاشی جوہری جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ دشمن کو نقصان پہنچانے کے چکر میں اپنا ہی زیادہ نقصان ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب یہ دشمن محض ایک ‘تصوراتی’ دشمن ہو۔”

اب اس “جوہری جنگ” کے “نظریاتی آغاز”کی جانب جائیں تو ٹیرف جنگ کی ابتدا اصل میں ٹرمپ کے تجارتی اور اقتصادی مشیر پیٹر نوارو کی کتاب میں رون وارا نامی ایک نام نہاد “ماہر اقتصادیت” سے آئی تھی۔تاہم، امریکی میڈیا نے انکشاف کیا کہ رون وار نامی کوئی شخص نہیں تھا اور اس بات کا قوی امکان تھا کہ نوارو نے ایک خیالی کردار”تخلیق”کیا تھا جو اس کے اپنے ہی نام کے حروف کی ترتیب کی تبدیلی سے بنتا ہے ۔

دشمن خیالی ہے، نظریہ فرضی ہے تو نتیجہ میں بھی ایک ہوائی قعلہ کی طرح ناکامی لازمی ہے.

ٹرمپ محصولات پالیسی کا ایک اہم مقصد مینوفیکچرنگ کو امریکہ میں واپس لانا ہے۔ لیکن حقیقت کیا ہے؟ ایپل کے موبائل فون کے معاملے میں امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ میں آئی فون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سچ ہے، تاہم ویڈ بش سیکیورٹیز کے ایک سینیئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اگر ایپل موجودہ سپلائی چین سسٹم سے الگ ہو کر امریکہ میں آئی فونز تیار کرتی ہے تو اس کی قیمت تین گنا زیادہ ہو جائے گی۔مینوفیکچرنگ کی واپسی مشکل ہے، اور امریکی عوام کو بڑھتی مہنگائی اور سکڑتی آمدنی سمیت شدید دباؤ کا سامنا ہے.

مزیدسنگین مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ ایک تجارتی شراکت دار، کاروباری مقام اور سرمایہ کاری کی مارکیٹ کے طور پر اپنی ساکھ اور اعتماد کو تباہ کر رہا ہے. یہ امریکہ کو “دوبارہ عظیم” بنانے کے بجائے امریکہ کو “غیر معقول” بنا رہا ہے!
اس بحران نے دنیا کو متنبہ کیا ہے کہ عالمی حکمرانی کو فوری طور پر “جنگل کے قانون” سے ” قواعد پر مبنی تہذیب” کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشٹو اور آر سی ای پی بنیادی ڈھانچے کے روابط سے تجارتی رکاوٹوں کو توڑ رہے ہیں۔ آسیان کی ڈیجیٹل معیشت میں تعاون اور افریقی کانٹیننٹل فری ٹریڈ ایریا جیسی نئی قوتیں بھی کثیر جہتی اقتصادی نقشے کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ ایسی صورت میں یکطرفہ پسندی اور “زیرو سم گیم” کو ترک کرنا،اور کیک کو اکیلے خود کھانے کی بجائے اس میں سب کے حصے کے تصور کو اپنانا ہی مخمصے کو ختم کرسکتا ہے۔

سو مضمون کے آغاز میں جو سوال کیا گیا تھا اس کا جواب خود بخود واضح ہے۔ کھلا پن، تعاون، مساوات اور باہمی تعاون ہی تمام ممالک کے لیے موزوں مستقبل ہیں کیوں کہ غندہ گردی کی دنیا ،غنڈہ گردی کرنے والوں کے علاوہ کوئی نہیں چاہتا۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟