سیکورٹی فورسز کا تیمرگرہ میں آپریشن، ہائی ویلیو ٹارگٹ سمیت 2 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
سیکورٹی فورسز نے ضلع لوئر دیر کے عمومی علاقے تیمر گرہ میں انٹیلجنس بیسڈ آپریشن میں ہائی ویلیو ٹارگٹ خوارجی حفیظ اللہ عرف کوچوان سمیت 2 خوارجی کو ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 10 اور 11 اپریل کی درمیانی شب سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ضلع لوئر دیر کے عمومی علاقے تیمرگرہ میں آپریشن کیا۔شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 2 خوارج جن میں ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ خوارجی "حفیظ اللہ عرف کوچوان" بھی شامل تھا ہلاک کردیا گیا۔
مزید پڑھیں: ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 10خوارج ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر اپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ خوارجی حفیظ اللہ عرف کوچوان سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھا۔ خوارجی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھا۔
حکومت کی جانب سے اس کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی ۔ علاقے میں مزید خوارج کی موجودگی کے خدشے کے پیشِ نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ پاک فوج ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز فورسز نے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک