3 سال کے بچے اور خاتون سمیت 4 افراد کو قتل کرنے والے ملزم کو جیل میں رکھنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
پشاور ہائیکورٹ نے 3 سال کے بچے اور خاتون سمیت 4 افراد کو قتل کرنیوالے ملزم کو جیل میں رکھنے کا حکم دے دیا۔
دوران ڈکیتی 4 افراد کے قتل کیس میں نامزد ملزم کی ضمانت درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسداللّٰہ نے کی، عدالت نے ملزم محمد اسحاق کی ضمانت درخواست خارج کردی۔
عدالت نے 4 افراد کے قتل کیس کے ملزم کو جیل میں رکھنے کا حکم دے دیا۔
مدعی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ملزم محمد اسحاق نے اگست 2022 میں 4 افراد قتل کیے تھے، قتل کیے گئے چار افراد میں 3 سال کا بچہ اور خاتون بھی شامل ہے۔
وکیل نے مزید کہا کہ ملزم کے دو ساتھی جیل میں ہیں، ایک مفرور اور ایک نے خودکشی کی، ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، ضمانت درخواست خارج کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جیل میں
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔