ٹام اینڈ جیری کا اے آئی ورژن: اس نئی ٹیکنالوجی سے آپ بھی چند منٹوں میں کارٹون بناسکتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
حال ہی میں ٹام اینڈ جیری کا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے بنایا گیا نیا ورژن سامنے آیا ہے جو دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال رہا ہے۔
اسٹین فورڈ اور NVIDIA کے مشترکہ پروجیکٹ TTT-MLP نے صرف ٹیکسٹ پرامپٹ کی بنیاد پر بنائی گئی اس مختصر ویڈیو میں کارٹون کی اصل روح کو زندہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
ویڈیو میں ٹام کو نیویارک کے ایک دفتر میں جیری کے ساتھ اسی پرانی چھیڑ چھاڑ کرتے دکھایا گیا ہے۔ اگرچہ کچھ مناظر بے ربط ضرور ہیں، لیکن اینی میشن کا معیار اور بیک گراؤنڈ میوزک اتنا شاندار ہے کہ یہ اصل سیریز کا ہی حصہ محسوس ہوتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی مصنوعی ذہانت روایتی اینی میشن کی جگہ لے سکتی ہے؟
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو لے کر کئی دلچسپ تبصرے سامنے آئے ہیں۔ کچھ صارفین نے اے آئی کی اس کامیابی کو سراہا ہے، جبکہ بہت سے لوگ اب بھی اصل کارٹون بنانے والوں کی محنت کو فوقیت دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا ’’اصل ورژن کی بات ہی کچھ اور تھی، اس میں وہ جادو تھا جو اے آئی نہیں لا سکتی۔‘‘
یہ ترقی اینی میٹرز اور فنکاروں کے لیے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ کیا آنے والے وقت میں اے آئی روایتی اینی میشن فنکاروں کی جگہ لے لے گی؟ یا پھر یہ محض ایک نیا ٹول ثابت ہوگی جو فنکاروں کے لیے کام کو آسان بنائے گی؟ فی الحال تو یہ بحث جاری ہے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ ٹیکنالوجی کی یہ دوڑ ابھی جاری رہے گی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم جلد ہی ٹام اینڈ جیری کی مکمل سیزن اے آئی کے ذریعے بنے ہوئے دیکھ پائیں گے؟ یا پھر شائقین اصل فنکاروں کی محنت کو ہی ترجیح دیں گے؟ وقت ہی بتائے گا کہ یہ نئی ٹیکنالوجی اینی میشن کی دنیا میں کس طرح کے انقلاب لے کر آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔