پاکستان نے ایران میں اپنے شہریوں کے بے رحمانہ اور بزدلانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے کہ ایرانی حکام معاملے کی تحقیقات اور جاں بحق افراد کی میتوں کی بروقت وطن واپسی میں مکمل تعاون کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہاکہ پاکستان اور ایران کی سرحد سے قریباً 230 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایران کے صوبہ سیستان، بلوچستان کی مہرستان کاؤنٹی میں گزشتہ روز 8 پاکستانی شہریوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کردیا گیا، ہمارے مشن نے پہلے ہی ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کی سیستان میں 8 پاکستانیوں کے قتل کی مذمت

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی قیادت اور عوام اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور پریشانی کا اظہار کررہے ہیں، وزیراعظم نے مقتولین کے اہل خانہ کے ساتھ اپنی دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان نے کہاکہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی ہدایت پر تہران میں ہمارا سفارت خانہ اور زاہدان میں ہمارا قونصل خانہ جامع تحقیقات کے لیے ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے ساتھ ساتھ مقتولین کی میتوں کو فوری طور پر پاکستان واپس لایا جا سکے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان ایران میں اپنے شہریوں کے بے رحمانہ اور بزدلانہ قتل کی شدید مذمت کرتا ہے، امید ہے کہ ایرانی حکام معاملے کی تحقیقات اور جاں بحق افراد کی میتوں کی بروقت واپسی میں مکمل تعاون کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں ایران میں 9 افراد کا قتل: پاکستان کا جرم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی پر زور

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان کے شہر مہرستان میں دہشتگردوں نے ایک ورکشاپ پر فائرنگ کرکے 8 پاکستانی کار مکینکس کو قتل کردیا تھا، قتل ہونے والے افراد کا تعلق پنجاب سے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ایران پاکستان پاکستانیوں کا قتل قونصلر رسائی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران پاکستان پاکستانیوں کا قتل وی نیوز ایران میں کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، پاک۔ایران دیرینہ تعلقات کا اعادہ
  • ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی