بھارت: سب سے بڑے بینک فراڈ میں ملوث ملزم بیلجیم میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 اپریل 2025ء) بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے حوالگی کی درخواست کے بعد ہیروں کے مفرور بھارتی تاجر میہول چوکسی کو بیلجیم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس 65 سالہ بھارتی شہری پر ملکی تاریخ کے سب سے بڑے بینک فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ چوکسی پر 2018 میں اثاثوں کے لحاظ سے بھارت کے دوسرے سب سے بڑے سرکاری قرض دہندہ پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) سے تقریباً 1.
اس اسکینڈل کے دیگر مبینہ مجرموں میں چوکسی کے بھتیجے زیورات کے مشہور ڈیزائنر اور اب بیرون ملک مفرور نیروو مودی، چوکسی خاندان کے دیگر افراد اور ان کی جیولری فرم کے ملازمین کے ساتھ ساتھ بینک کے کچھ اہلکار بھی شامل ہیں۔
(جاری ہے)
ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بینک فراڈاس بینک فراڈ میں مبینہ طور پر زیورات خریدنے اور درآمد کرنے کے لیے قرض حاصل کرنے کے لیے جعلی دستاویزات کا استعمال شامل تھا۔
تاہم چوکسی، یہ اسکینڈل سامنے آنے سے پہلے ہی بھارت چھوڑ چکے تھے۔ بھارتی حکام کا خیال ہے کہ چوکسی اپنی حوالگی کو چیلنج کریں گے اور طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست سے دے سکتے ہیں۔ نیروو مودی بھی اس میں ملوث ہیںچوکسی کے بھتیجے نیروو مودی بھی اب لندن سے نئی دہلی حوالگی کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہیں برطانوی حکام نے 2019ء میں گرفتار کیا تھا۔
ہیروں کے تاجر کے بیٹے نیروو مودی نے ایک بین الاقوامی سلطنت قائم کی اور دنیا کے کئی بڑے شہروں میں لگژری جیولری اسٹورز کھولے۔انہوں نے مشہور شخصیات کے کی میزبابنی بھی کی، جن میں اداکارہ نومی واٹس، کیٹ ونسلیٹ اور پریانکا چوپڑا جوناس شامل ہیں۔ 2017 میں، مبینہ دھوکہ دہی سے پہلے، فوربس نے مودی کی دولت کا تخمینہ 1.73 بلین ڈالر لگایا تھا۔ نیروو مودی کا آخری نام بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملتا ہے لیکن دونوں افراد کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔
شکور رحیم روئٹرز اور ای ایف ای کے ساتھ
ادارت: افسر بیگ اعوان
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نیروو مودی بینک فراڈ میں ملوث
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔