فوٹو: فائل

ملزم ساحر حسن کے خلاف منشیات برآمدگی کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی جنوبی کی عدالت میں تفتیشی افسر نے مقدمے کا عبوری چالان پیش کردیا۔

اسپیشل پبلک پراسکیوٹر نے کیس کا چالان متعلقہ عدالت کو ارسال کردیا، چالان کے متن میں تحریر کیا گیا کہ ملزم نے منشیات کی فروخت شدہ رقم والد کے منیجر کے اکاؤنٹ میں منگوانے کا اعتراف کرلیا۔ 

عبوری چالان کے مطابق ملزم کے والد کے منیجر کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیا، منیجر کو بینک اسٹیٹمنٹ اور بےگناہی کے شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ منیجر نے تاحال اپنی بےگناہی کے شواہد اور  بینک اسٹیٹمنٹ جمع نہیں کروائے۔

یہ بھی پڑھیے منشیات کیس، ملزم ساحر حسن کیخلاف حتمی چالان پیش کرنے کی ہدایت معروف اداکار کے بیٹے ساحر حسن کا ویڈیو بیان سامنے آیا گیا

اس میں تحریر کیا گیا کہ پولیس نے اکاؤنٹس ہولڈرز سمیت 15 افراد کو بھی عدم شواہد پر کالم ٹو میں رکھا ہوا ہے، ان ملزمان کے خلاف تاحال ٹھوس شواہد نہیں مل سکے۔

عبوری چلان کے متن میں تحریر ہے کہ ملزم ساحر کے موبائل فون کی فرنزک رپورٹ موصول نہیں ہوسکی، مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ملی۔

اس میں مزید تحریر کیا گیا کہ ملزم ساحر ویڈ بازل اور یحییٰ سے خریدتا تھا، سپلائرز ویڈ بذریعہ کوریئر کمپنی ملزم کو بھجواتے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم