آئی ایم ایف پروگرام میں چین کا کردار مثالی تھا: وزیرِ اعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ چین نے ہر موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں بھی چین کا کردار مثالی تھا۔
اسلام آباد میں زرعی اسکالرشپ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے زرعی گریجوایٹس اعلیٰ تعلیم کے لیے چین جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چین سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے تجربات سے فائدہ اٹھائے گا، پاکستانی طلباء کو اسکالرشپ دینے پر چینی حکومت کے مشکور ہیں۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانی ہمارے سفیر اور سرکا تاج ہیں، ان پر جتنا کچھ نچھاور کریں کم ہے۔
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ زرعی یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق نے متاثر کیا، اپنے دورۂ چین میں وہاں زرعی یونیورسٹی کا دورہ کیا، پاکستانی طلباء بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان پُل کا کردار ادا کریں گے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار اہم ہے، اسکالرشپ پروگرام کے لیے زرعی گریجویٹس کا میرٹ پر انتخاب کیا، زرعی گریجویٹس کا انتخاب آزاد کشمیر، جی بی اور چاروں صوبوں سے کیا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسکالر شپ پر چین جانے والے گریجویٹس میں بلوچستان کا کوٹہ 10 فیصد سے زائد ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف کا کردار
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔